اسلام آباد:وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ کسی کو مینڈیٹ چاہیے ہو یا رہائی ، اس کا راستہ مذاکرات ہی ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ہوں یا مولانا فضل الرحمان ، ان کے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ۔ اگر ہمیں معلوم ہو کہ وہ ملنے کی خواہش رکھتے ہیں تو ہم خود بھی ان سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ مذاکرات کے لیے آگے بڑھیں اور ہماری طرف سے اس پر انکار ہو لیکن یہ کہنا کہ پہلے ایسا کریں اور یہ کریں ، اس کے بعد مذاکرات ہوں گے ۔ پارلیمانی اور جمہوری نظام میں مذاکرات غیر مشروط ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری رپورٹس ہیں کہ پی ٹی آئی ایک نیا 9 مئی کرنے کی تیاری کر رہی ہے تو اس کی پیش بندی کے لیے جو ضروری ہے وہ ہوگا ۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت اعتماد کا بحران عروج پر ہے ، اداروں کے اندر جو تقسیم نظر آرہی ہے وہ ایسی صورتِ حال نہیں جس پر اطمینان کا اظہار کیا جاسکے۔
(بشکریہ:جیونیوز)
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

