Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعہ, اکتوبر 16, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم / زبانوں کے خاندان
  • پشاور میں سکول کی چھت گرگئی : اٹھائیس بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی
  • سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی
  • زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔بنی نوع انسان ، مختصر اور جامع تاریخ
  • جمہوریت کا جنازہ اور اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • خیر پور میرس سے ہوت والا تک : زبانوں اور مہربانوں کا تذکرہ : زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی
  • ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس الٹ گئی : 5 مسافر ہلاک 30 زخمی
  • شہباز شریف کا لانگ مارچ اور عمران خان کے گرد گھومتی سیاست : حامد میر کا کالم
  • "ممتاز نامہ” — ایک زندگی، کئی جہان : محمد عمران کا اختصاریہ
  • کوئٹہ میں پولیس گاڑی پر حملہ: ایک اہلکار ہلاک، چار افراد زخمی
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » عطا ء الحق قاسمی کا کالم:سائیں بابا اور سائنسی بابا!
عطاء الحق قاسمی

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:سائیں بابا اور سائنسی بابا!

ایڈیٹرجنوری 21, 20249 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

ایک کالم نگار نے مجھے آج فون کیا اور کہا یہ جو آپ نے اپنے کالم میں ’’سائیں بابا کے فیوض و برکات گنوائے ہیں اگر آپ کے سائیں بابا اتنے ہی صاحب کرامات ہیں تو آپ ان کے ہاتھ پر بیعت کیوں نہیں کر لیتے ؟میں نے جواب دیا ‘‘یہ سوال آج خود سائیں بابا نے بھی مجھ سے کیا ہے میں آپ کو اور سائیں بابا کو اس کا جواب بعد میں دوں گا پہلے میں آپ کو سائیں بابا کے اور بھی بہت سے کمالات بتانا چاہتا ہوں کیونکہ جگہ کی کمی کی وجہ سے میں ان کا ذکر نہیں کر سکا تھا ۔
اور پھر میں نے بتایا کہ سائیں بابا کے کشف کا یہ عالم ہے کہ وہ پہلے سے بتا دیتے ہیں کہ کل بارش ہو گی کہ نہیں وہ اپنے علم کے ذریعے بتا سکتے ہیں کہ فلاں کے ہاں بچہ پیدا ہو سکتا ہے یا نہیں ؟انہیں یہ بھی علم ہوتا ہے کہ جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہے وہ لڑکا ہے یا لڑکی؟انہیں سیلاب یا طوفان کے بارے میں پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کب آئے گا اور اس کی شدت کتنی ہو گی؟میرے سائیں بابا زلزلوں کے بارے میں بھی پہلے سے بتا دیتے ہیں یعنی وہ جانتے ہیں کہ دنیا کے کون کون سے علاقے زلزلوں کی زد میں ہیں؟سائیں بابا تو اتنےپہنچے ہوئے ہیں کہ وہ بلڈ پریشر، ذیابیطس اور کئی دوسرے موذی امراض کو کنٹرول کرنا جانتے ہیں وہ تو دل کو سینے سے نکال کر اسے صاف کرکے دوبارہ واپس رکھ دیتے ہیں اور انسان بھلا چنگا ہو جاتا ہے ان کی ’’دعا‘‘ سے پوری دنیا میں چیچک کا خاتمہ ہو گیا ہے جو گھرانے سائیں بابا کا کہا مانتے ہیں ان کے ہاں معذور بچے پیدا نہیں ہوتے وہ لوگوں کو ہیپاٹائٹس (اے بی سی ) سے بھی بچاتے ہیں ان کے قبضے میں بہت سے ’’جن‘‘ ہیں ایسے جو آپ کی دستاویزات چند سیکنڈز میں ہزاروں میل دور پہنچانے پر قادر ہیں ۔سائیں بابا نے تو ایک ہی شکل اور ایک ہی جسامت کی بھیڑیں پیدا کرکے اپنے عقیدت مندوں کو حیران کر دیا تھا یہ تو سائیں بابا کے کمالات کی ایک معمولی سی جھلک ہے میں اگر تفصیل بیان کرنے پر آؤں تو اس کے لئے پورا دن بھی ناکافی ثابت ہوگا۔
اور جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ان تمام کمالات کے باوجود میں نے آج تک سائیں بابا کے ہاتھ پر بیعت کیوں نہیں کی اور ان کو ہر معاملے میں اپنا ملجا و ماویٰ کیوں نہیں بنایا تو اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میرا اپنا تعلق پیروں کے خاندان سے ہے لوگ صدیوں سے ہمارے خاندان کے بزرگوں کے ہاتھ پر بیعت کرتے رہے ہیں لہٰذا مجھ سےیہ توقع رکھنا کہ میں کسی اور کو مانوں گا یہ محض خام خیالی ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ سائیں بابا نے جہاں لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنایا ہے وہاں انہوں نے دنیا میں تباہی بھی بہت مچائی ہے ۔وہ گزشتہ سو سال کے عرصے میں کروڑوں لوگوں کو لڑائی جھگڑے کے دوران ہلاک کر چکے ہیں پہلے لوگ جھگڑے کے دوران ایک دوسرے پر تلواروں سے حملہ کرتے تھے اور یوں جانی نقصان بہت کم ہوتا تھا مگر اب سائیں بابا پھونک مارتے ہیں اور کشتوں کے پشتے لگ جاتے ہیں۔سائیں بابا مسلمانوں کے مقدس مقامات کو بھی نہیں بخشتے چنانچہ وہ اب تک سینکڑوں مسجدوں اور بزرگان دین کے مزاروں کو نشانہ بنا چکے ہیں مجھے ان کی یہ بات بھی پسند نہیں کہ وہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی لوگوں کی باتیں سنتےہیں اور انہیں جلوت میں بھی دیکھتے رہتے ہیں اس کے بعد وہ جسے تباہ کرنا چاہیں ایک پھونک مار کر تباہ کر دیتے ہیں چنانچہ میں جہاں سائیں بابا کی برکات کا بہت قائل ہوں وہاں ان کی لائی ہوئی آفات کی وجہ سے ان سے بہت دل برداشتہ بھی ہوں ۔میں نے یہ سب باتیں سائیں بابا سے بھی کہیں جب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم میرے ہاتھ پر بیعت کیوں نہیں کرتے ؟ان کا جواب تھا کہ تم نے جن آفات کا ذکر کیا ہے میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ سب میرے ایک بدکردار بھائی کا کیا دھرا ہے جو کالے علم کا ماہر ہے وہی اپنے علم کے ذریعے دنیا کو مسلسل تباہی کی طرف لے جا رہا ہے لیکن یہ سب کچھ وہ صرف اس وقت تک کر سکے گا جب تک تم خود مضبوط نہیں ہوتے مگر تم صرف کڑھتے رہتے ہو یا ایسے معاملات میں الجھے ہوئے ہو جنہیں تم اپنی بقاسے زیادہ اہم سمجھتے ہو ۔میں سمجھتا ہوں کہ غسل اور طہارت کے مسئلے اپنی جگہ لیکن یہ ضرور سوچو کہ گزشتہ چھ سو برسوں میں تم نے اس کے علاوہ اور کیا کیا ہے؟سائیں بابا ٹھیک کہتے ہیں مگر میں ان کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرسکتا وجہ میں ابتدا میں بیان کر چکا ہوں اور وہ یہیں کہ پدرم سلطان بود چنانچہ پیروں کے خاندان کا فرد کسی دوسرے کے ہاتھ پر بیعت کیسے کر سکتا ہے؟
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleیاسر پیرزادہ کا کالم:جنوری میں موٹیویشن عروج پر ہے
Next Article گل نو خیز اخترکا کالم:ایک ملتانی کا دُکھ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم / زبانوں کے خاندان

اکتوبر 16, 2026

پشاور میں سکول کی چھت گرگئی : اٹھائیس بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی

اکتوبر 15, 2026

سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی

اکتوبر 14, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم / زبانوں کے خاندان اکتوبر 16, 2026
  • پشاور میں سکول کی چھت گرگئی : اٹھائیس بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی اکتوبر 15, 2026
  • سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی اکتوبر 14, 2026
  • زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔بنی نوع انسان ، مختصر اور جامع تاریخ اکتوبر 14, 2026
  • جمہوریت کا جنازہ اور اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری : سید مجاہد علی کا تجزیہ اکتوبر 14, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.