Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, اکتوبر 17, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا
  • ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • گورنر راج کے بعد حکمران اتحاد میں اختلافات : ’ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں‘ : محسن نقوی
  • ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم / زبانوں کے خاندان
  • پشاور میں سکول کی چھت گرگئی : اٹھائیس بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی
  • سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی
  • زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔بنی نوع انسان ، مختصر اور جامع تاریخ
  • جمہوریت کا جنازہ اور اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • خیر پور میرس سے ہوت والا تک : زبانوں اور مہربانوں کا تذکرہ : زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی
  • ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس الٹ گئی : 5 مسافر ہلاک 30 زخمی
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » بے نظیر بھٹو کا تخت لاہور ۔۔ 10 اپریل 1986 ء کے استقبال کا آنکھوں دیکھا حال رضی الدین رضی کے قلم سے
رضی الدین رضی

بے نظیر بھٹو کا تخت لاہور ۔۔ 10 اپریل 1986 ء کے استقبال کا آنکھوں دیکھا حال رضی الدین رضی کے قلم سے

ایڈیٹردسمبر 27, 202359 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

1986 میں بے نظیر بھٹو جلاوطنی ختم کر کے لاہور پہنچیں تو ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا ۔ ان دنوں شاکر حسین شاکر جدہ اور میں لاہور میں مقیم تھا چودہ اپریل 1986 ء کو شاہ نور سٹوڈیوز کے سامنے واقع محلہ سید پورہ کے ایک کمرے میں میں نے ایک خط لکھا اور اسے جدہ ارسال کر دیا یہ خط بے نظیر بھٹو صاحبہ کی لاہور آمد کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ خط میں نے دو روز میں مکمل کیا تھا جب میں یہ خط لکھ رہا تھا مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ یہ خط کبھی تاریخی اہمیت اختیار کر جائے گا ایک دستاویز بن جائے گا اس زمانے کی جسے آج کی نسل نے نہیں دیکھا ۔
مجھے تو یہ خط یاد بھی نہیں تھا ۔شاکر حسین شاکر نے بینظیربھٹو کی یاد میں ’’خداحافظ شہزادی‘‘کے نام سے کتاب تحریرکی تو یہ طویل خط بھی اُس کتاب میں شامل کرلیا ۔شاکرنے کتاب کی اشاعت سے قبل میرا ہی خط مجھے پڑھنے کو دیا تو میں 1986 ء کی اُسی جذباتی فضا میں چلا گیا جس میں یہ خط تحریرکیا گیا تھا ۔یہ خط دراصل نوحہ ہے ہمارے اُن خوابوں کا جن کی تعبیرمیں ہم نے یہ عمر بتا دی۔37 سال پہلے تحریرکئے گئے اِس خط میں بہت سی یادیں محفوظ ہیں۔ضیاء آمریت کا منظرنامہ ہے ،جمہوریت کی جدوجہد ہے ،پُرجوش عوام ہیں اوروہ اُمیدیں اور خواب ہیں جو 27 دسمبر2007 ء کی شام جمہوریت اور آزادی کے دشمنوں نے محترمہ بینظیربھٹو کے ساتھ ہی شہید کر دیئے ۔
یہ خط اہم ہے خاص طور پر آج کی اُس نسل کے لیے جسے معلوم ہی نہیں کہ آج ہمیں جتنی بھی تھوڑی بہت آزادی میسر ہے وہ کن قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔اس خط کے ذریعے اُس دور کے جذبے اور اُمنگیں ہی نہیں وہ یادیں بھی محفوظ ہوجائیں گی جو آپ کے لیے تو شاید زیادہ اہمیت نہ رکھتی ہوں لیکن میری زندگی کا بہرحال اثاثہ ہیں۔ہم کتنے پُر امیدتھے، ہمیں کس قدریقین تھادن بدلنے کا اور خوابوں کے ثمرآور ہونے کا۔آج احساس ہوتا ہے کہ جیسے امن ، آزادی ، جمہوریت اور یقین کا ساراسفر رائیگاں گیا۔رائیگانی کا یہ احساس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔لوگوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے، کوڑے کھائے،جیلوں میں گئے صرف اس لئے کہ اس ملک سے آمریت کا خاتمہ ہو،ہمارے بچے بہتر ماحول میں اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر سکیں وہ خواب جو ہمارے لئے تو شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکے ۔ضیاء الحق اور اُس کے حواریوں نے اس ملک میں نفرت اور تعصبات کی جو فصل بوئی وہ اب سروں کی فصل میں تبدیل ہو چکی ہے۔کوئی آتا ہے اور اسلام کے نام پر بیگناہ عورتوں،بچوں،بوڑھوں اور جوانوں کو قتل کر کے شہادت کے رتبے پر فائزہو جاتا ہے ۔دُھندبڑھتی جا رہی ہے ہم ہر مرتبہ کسی ڈکٹیٹرسے نجات کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور جب وہ ڈکٹیٹررُخصت ہوجاتا ہے تو ہم نئے ڈکٹیٹر کی تلاش شروع کر دیتے ہیں تاکہ جدوجہدکا عمل جاری رہے ۔
اب قدریں تبدیل ہوگئیں۔حاضرسروس جرنیلوں سے خفیہ ملاقاتیں اب جمہوریت کا حسن سمجھی جاتی ہیں۔سمجھوتہ کئے بغیر پھانسی کے پھندے پر جھول جانے والے کوپہلے آئیڈیل سمجھاجاتا تھااب معاہدہ کر کے بیرون ملک فرارکو مصلحت کہا جاتا ہے ۔ طبلچی اور قوال کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب نے غلطی کی انہیں بھی ’’دُور اندیشی‘‘ کا مظاہرہ کر کے جان بچا لینا چاہئے تھی۔یہ مشورہ شہیدبی بی کو بھی دیا گیا تھامگر انہوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تاریخ کے ہاتھوں قتل ہونا قبول نہ کیا ۔وہ اپنی وصیت تحریرکرنے کے بعد امام ضامن باندھ کر پاکستان آئیں۔گڑھی خدابخش جاکراپنی قبر کی جگہ کا انتخاب کیا اور پھر موت کے سفر پر روانہ ہوگئیں۔
یہ خط صرف ایک یاددِہانی ہے۔خوابوں ،امیدوں، آرزوؤں اور وعدوں کی یاددہانی ۔ وہ خواب جو ہم نے کبھی اپنے لیے دیکھے تھے اور اب اپنے بچوں کے لیے دیکھ رہے ہیں۔وہ خواب جن میں ہم نے روشن صبحیں دیکھیں، ہنستے مسکراتے ،گیت گاتے لوگ دیکھے۔وہ خواب جن میں ہماری سڑکوں پر لاشیں نہیں تھیں۔وہ خواب جن میں ہم نے سرخ رنگ صرف پھولوں کے حوالے سے دیکھا تھا ۔ہمارے خواب 27 دسمبر 2007 ء کی شام محترمہ بینظیربھٹوکے ساتھ شہید کر دیئے گئے لیکن پھر بھی ہمیں یقین ہے کہ ان خوابوں کو تعبیر ضرور ملے گی۔اور یہ یقین ہمیں اس لیے ہے کہ ہم جانتے ہیں شہید مرتے نہیں۔آج کے دن اسی خط کے کچھ اقتباسات آپ کی نذر اور آصفہ بھٹو کی نذر جو اب محترمہ کی دی ہوئی مشعل تھامے بلاول بھٹو کے ہم قدم ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کل پاکستان میں اس استقبال اور جلسے کے سوا کسی کے پاس کہنے کو اور کوئی موضوع ہی نہیں ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اگلے کئی مہینوں تک بس یہی جلسہ موضوعِ گفتگو رہے گا۔ شاکر میں نے تمہیں اس روز بہت Miss کیا۔ بلکہ میں نے اپنے ہر دوست کی کمی محسوس کی۔ وہ ایک ایسا تاریخی لمحہ تھا اور ایسا تاریخی منظر تھا جو شاید پاکستان کی تاریخ میں دوبارہ کبھی دیکھنے کو نہ ملے۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں اس منظر کا حصہ تھا۔ تم جن لمحوں کی تصویروں کے لیے ترستے ہو میں نے وہ لمحے خود دیکھے ہیں۔ میں لاکھوں افراد کے اس ہجوم میں شامل تھا جو آمریت کے خلاف احتجاج کے لیے لاہور کی سڑکوں پر موجود تھا۔ شاکر لاہور کی سڑکوں پر میں گزشتہ 8 ماہ سے گھوم رہا ہوں مگر لاہور مجھے کبھی اتنا خوبصورت نہیں لگا جتنا 10 اپریل کو تھا۔ اور 10 اپریل ہی کیوں 9 اپریل کی رات بھی تو لاہور بہت خوبصورت تھا۔ آمریت کی طویل رات کو ختم کرنے کے لیے جمع ہونے والوں نے اس رات کو دن میں تبدیل کر دیا تھا۔ شاکر وہ رات تو نہیں تھی امید کی ایک روشنی لیے آئی تھی وہ رات۔ سب سڑکوں پر نعرے لگاتے تھے اور رقص کرتے تھے۔ میں اس ہجوم میں تنہا تھا مگر خود کو تنہا محسوس نہیں کر رہا تھا میرے جیسے کئی دبے کچلے اور روشنی کے طلب گار لوگ میرے ساتھ تھے۔ ضیاء الحق مردہ باد، ضیاء الحق مردہ باد ، ضیاء الحق مردہ باد۔ یہ نعرہ ہم نے سکول میں بھی لگایا تھا ، کالج میں بھی لگایا لیکن شاکر اس نعرے کا جو لطف 9 اور 10 اپریل کو آیا اس سے پہلے کبھی نہ آیا تھا۔ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ ہم تو اسے نعرہ سمجھتے تھے مگر اب معلوم ہوا کہ یہ نعرہ نہیں ایک حقیقت ہے۔ بھٹو واقعی زندہ ہے۔ جسے انہوں نے 4 اپریل 1979ء کو رات کی تاریکی میں پھانسی دی تھی وہ بھٹو 9 اپریل 1986ء کی رات لاہور کی سڑکوں پر موجود تھا۔ لاکھوں افراد رقص کرتے تھے، دھمال ڈالتے تھے اور ہر شخص بھٹو تھا۔ 9 اپریل کی رات لاہور میں شب برات اور 10 اپریل کا دن عید کی طرح پررونق تھا۔ میں 9 اپریل کو رات 8 بجے مینار پاکستان گیا تو وہاں عجب سماں تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ وہ سٹیج دیکھنے آئے تھے جو بے نظیر صاحبہ کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ یار میں نے موچی دروازے میں ایک دو سرکاری جلسیاں بھی دیکھی ہیں۔ بیورو کریسی اور ارکان اسمبلی کی کوششوں سے وہاں جن بھیڑ بکریوں کو جمع کیا جاتا ہے ان کی تعداد بھی اس ہجوم سے کم ہوتی ہے جو یہاں صرف سٹیج دیکھنے کیلئے جمع ہو گیا تھا اور بے نظیر بھٹو کو تو یہاں اگلے روز شام تک پہنچنا تھا۔ لوگ ڈھول پر رقص کرتے تھے اور نعرے لگاتے تھے۔ ہر طرف پیپلز پارٹی کا سہ رنگا پرچم لہرا رہا تھا۔ سرخ، سیاہ اور سبز رنگ کے پرچموں اور اسی رنگ کے کپڑوں نے عجب سماں باندھ دیا تھا۔ مینار پاکستان کے سائے میں بہت بڑا سٹیج تیار کیا جا رہاتھا۔ پیپلز پارٹی کے کارکن سٹیج کو سجا رہے تھے۔ اپنے شہید قائد کی بیٹی کے استقبال کے لیے اہل لاہور دیدہ و دل فرشِ راہ کئے ہوئے تھے۔ یہ دیدہ و دل فرشِ راہ کیسے کئے جاتے ہیں اس کا مفہوم تم کبھی بھی نہ سمجھ سکو گے کہ تم نے یہ منظر دیکھا ہی نہیں ہے۔ اس محاورے کو صرف وہی سمجھ سکے گا جس نے 9 اور 10 اپریل کا لاہور دیکھا ہے۔
لاؤڈ سپیکروں پر ترانے چل رہے تھے۔ سوہنی دھرتی ﷲ رکھے قدم قدم آباد تجھے، اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا۔ مرد مومن کی نیندیں تو خیر حرام ہو چکی تھیں البتہ پورا لاہور مردِ مجاہد کی صورت میں جاگ رہا تھا۔ لاہور میں رت جگا تھا۔ بے نظیر صاحبہ کے طیارے نے صبح 6 بجے ایئر پورٹ پر لینڈ کرنا تھا سنا ہے ایئرپورٹ پر بھی لوگوں کی بہت بڑی تعداد پہنچ چکی تھی۔ میں خود ایئرپورٹ جانا چاہتا تھا میری بھی خواہش تھی کہ ہزاروں لاکھوں افراد کی طرح میں بھی یہ رات ایئرپورٹ پر گزاروں مگر مجھے جاگتا اور رقص کرتا لاہور خود سے جدا نہ ہونے دے رہا تھا۔ رات گئے تک میں اسی طرح لاہور کی سڑکوں پر گھومتا رہا۔ مختلف چوراہوں پر رقص کرنے والوں کے ساتھ رقص کرتا رہا۔ نعرے لگانے والوں کے ساتھ نعرے لگاتا رہا۔ اور پھر ملتان روڈ سے ہوتا ہوا شاہ نور سٹوڈیوز کے سامنے والے محلے میں اپنے کمرے میں آگیا۔ میں کچھ دیر آرام کر کے صبح کے لیے تازہ دم ہونا چاہتا تھا۔ صبح مجھے دفتر بھی جانا تھا اور پھر وہاں سے جلدی فرار ہو کر بے نظیر بھٹو صاحبہ کے استقبال میں بھی شامل ہونا تھا۔
بے نظیر آئے گی، انقلاب لائے گی۔ یہ نعرہ بار بار میرے کانوں میں گونجتا رہا۔ انقلاب، عوامی انقلاب ۔ آمریت سے نجات کے لمحات قریب آ رہے ہیں۔ فیض صاحب نے کہا تھا ناں ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔ وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے۔ جو لوحِ ازل پر لکھا ہے، ہم دیکھیں گے۔ اور شاکر میں سوچ رہا تھا کہ فیض صاحب نے جس دن کا ذکر کیا شاید وہ 10 اپریل ہی ہو۔ 10 اپریل کا سورج جو چند ہی گھنٹوں میں طلوع ہونے والا تھا، ایک نئی امید، ایک نئی آرزو، وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے وہ دن اب چند گھنٹوں کی مسافت پر تھا۔ پھر تخت گرائے جائیں گے اور تاج اچھالے جائیں گے۔ اور جنرل ضیاء کے سر اوپر بجلی کڑ کڑ کڑکے گی ہم دیکھیں گے۔ وقت گزر ہی نہیں رہا تھا۔
۔۔چودہ اپریل 1986 ء لاہور ۔۔
میں صبح 5 بجے پھر کمرے سے نکل آیا۔ وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے میں اس دن کو طلوع ہوتے دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ دن تو روز جیسا ہی تھا مگر کچھ زیادہ اجلا اور شفاف دکھائی دے رہا تھا۔ سید پور کی گلیوں سے نکلتا ہوا میں ملتان روڈ پر آگیا۔ شاہ نور سٹوڈیو کے گیٹ کے ساتھ ایک دکان سے میں روز ناشتہ کرتا ہوں اس روز بھی وہیں سے ناشتہ کیا۔ سڑکوں پر ویسی ہی رونق تھی جیسی میں رات دو بجے کے قریب چھوڑ کر گیا تھا۔ رات کو لاہور روشنیوں میں نہایا ہوا تھا اور اب جب دن نکلا تو منظر اور بھی خوبصورت ہو گیا۔ لگتا تھا پورے لاہور کو 3 رنگوں میں رنگ دیا گیا ہے۔ سرخ، سیاہ اور سبز۔ ہر طرف یہی تین رنگ دکھائی دے رہے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے ہر منظر انہی تین رنگوں میں سمٹ آیا ہے۔ سرخ لہو کا رنگ ہے، سیاہ ماتمی لباس کا رنگ اور سبز؟ ۔۔۔ سبز شاید گنبد کا رنگ ہو یا شاید قبروں پر ڈالی جانے والی چادروں کا رنگ ہو۔ بھٹو صاحب نے اپنی پارٹی کے لیے پرچم کے رنگوں کا جب انتخاب کیا تو ان کے ذہن میں ان رنگوں کی یہ تقسیم یقیناًنہیں تھی مگر پارٹی کا پرچم اب انہی 3 علامات کا مرقع بن چکا ہے۔ آزادی کی علامت بن چکا ہے اور خون دینے کی روایت بن چکا ہے۔ بھٹو صاحب کے ساتھ پارٹی کے کتنے ہی کارکنوں نے جانوں کے نذرانے دیئے۔ رات ایک چوراہے میں کوئی عوامی شاعر پنجابی کی ایک نظم سنا رہا تھا۔ تین مصرعے تو ذہن میں نقش ہو کر رہے گئے۔ سِر دِتا سی / سِر لینے نے/ ہُن انج نیوندرے پینے نے ۔ شاکر دیکھ اس مصرعے میں ’’نیوندرے‘‘ کتنا خوبصورت استعمال ہوا۔ واقعی بہت خوبصورت زبان ہے پنجابی ۔ اب یہ مضمون کسی اور زبان میں اتنی خوبصورتی کے ساتھ کبھی بھی نہیں باندھا جا سکتا۔ اور ’’نیوندرا‘‘ ۔ اس لفظ کا بھی ترجمہ ممکن نہیں۔ سو ملک بھر سے پیپلز پارٹی کے کارکن ’’نیوندرے‘‘ ڈالنے کے لیے جمع ہو چکے تھے۔ صبح چھ بجے جہاز کی آمد کا وقت تھا۔ میں ایئرپورٹ سے کئی کلومیٹر دور تھا۔ مجھے تو کیا کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ جہاز ابھی لینڈ کیا ہے یا نہیں۔ لیکن چھ بجے لاہور کی سڑکوں میں جو جہاں تھا اس نے زور دار نعرے کے ساتھ گویا بے نظیر کی آمد کا اعلان کر دیا۔ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، بھٹو کی تصویر بے نظیر، بے نظیر‘‘ کے نعرے گونجنے لگے۔ اور رات تک ’’بے نظیر آئے گی، انقلاب لائے گی‘‘ کا جو نعرہ لگ رہا تھا وہ ’’بے نظیر آئی ہے، انقلاب لائی ہے‘‘ کے نعرے میں تبدیل ہو گیا۔ ایک ہی لمحے میں منظر بدل گیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ہمارے خوابوں کو تعبیر مل گئی ہے۔
۔۔۔
ان دو دنوں کے دوران لاہور میں جتنا ڈھول بجایا گیا شاید ہی کبھی بجایا گیا ہو۔ ان دو دنوں کے دوران لاہور کی سڑکوں پر خلقت نے جتنا رقص کیا شاید ہی کبھی کیا ہو۔ پورا لاہور ناچتا گاتا دکھائی دے رہا تھا۔ اس لاہور نے بہت برے دن بھی دیکھے۔ آہیں اور سسکیاں بھی دیکھیں۔ اسی لاہور کی سڑکوں پر لوگوں کو کوڑے بھی لگائے گئے، انہیں چوراہوں میں سرعام پھانسیاں بھی دی گئیں تاکہ باقی لوگ عبرت حاصل کریں۔ اسی لاہور کی سڑکوں پر خون کی ہولی بھی کھیلی گئی، فائرنگ ہوئی، لاٹھیاں چلیں، آنسو گیس پھینکی گئی اگرچہ اس عہد سیاہ میں لوگوں کو رُلانے کے لیے آنسو گیس کے تردد کی ضرورت بھی نہیں کہ آنسو تو اظہار کا سب سے بڑا وسیلہ بن چکے تھے مگر اس کے باوجود بے تحاشا آنسو گیس استعمال ہوئی اسی لاہور کی سڑکوں پر لوگوں نے تیرگی کے خاتمے کے لیے اپنے جسموں کو چوارہوں میں آگ لگائی اور شمع ہر رنگ میں جلتی رہی سحر ہونے تک کی عملی تصویر بن گئے۔ تو شاکر اس لاہور نے جتنے دکھ دیکھے اور جتنے آنسو دیکھے یہ ان کے کفارے کا دن تھا۔ یہ خوشیوں کا دن تھا ناچنے گانے اور جشن منانے کا دن تھا۔ اور جشن منایا جا رہا تھا، ڈھول بج رہا تھا پوری شدت کے ساتھ ہر گلی اور محلے میں بج رہا تھا۔ سڑکوں پر ٹریفک بڑھتی جا رہی تھی۔ بسیں، کاریں، ویگنیں، ٹرالیاں، ٹریکٹر، رکشے، ٹانگے، ریہڑیاں بس جسے جو ملا وہ اس پر ایئرپورٹ کی جانب گامزن تھا۔ ہماری رفتار بہت سست تھی، بہت ہی سست، گاڑیاں رینگ رہی تھیں۔ یہاں تک کہ شیر پاؤ پل آگیا۔ آگے گاڑیوں کا جانا ممکن نہیں تھا۔
اب احوال کو مختصر کرتا ہوں اور تمہیں ریگل چوک لیے چلتا ہوں۔ 10 اپریل سہ پہر تین بجے میں ریگل چوک میں موجود تھا اور سامنے ٹرک پر بے نظیر بھٹو ہاتھ لہرا کر میرے نعروں کا جواب دے رہی تھیں۔ تم میرے اس جملے پر مسکرا رہے ہو ناں کہ لاکھوں کے ہجوم میں بے نظیر میرے نعرے کا ہی جواب کیوں دے رہی تھیں۔ شاکر یقیناًوہ میرے نعرے کا نہیں وہ سب کے نعروں کا جواب دے رہی تھیں لیکن میری Feeling یہی تھی کہ جیسے وہ صرف میرے نعرے کا جواب دے رہی ہیں۔ میں نے نعرہ ہی اتنی قوت سے لگایا تھا کہ لاکھوں آوازوں میں بھی مجھے یقین ہو گیا تھا کہ میری آواز ہی ان تک پہنچی ہو گی۔ اور صرف میری ہی انہیں اس ہجوم میں موجود ہر شخص کی یہی کیفیت تھی۔ میں بے نظیر بھٹو کو اپنے سامنے دیکھ رہا تھا۔ ایک خواب حقیقت بن چکا تھا۔ لیڈر ہمارے سامنے تھی۔ بے نظیر ہمارے سامنے تھے۔ بھٹو کی تصویر ہمارے سامنے تھی۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں بے نظیر بھٹو کی جھلک دیکھنے میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ میں نے پہلی بار بے نظیر صاحبہ کو دیکھا تھا اور مجھے یاد آرہا تھا وہ لمحہ جب میں نے پہلی اور آخری مرتبہ بھٹو صاحب کو دیکھا تھا۔ کینٹ میں ہمارے گھر کے پاس مال روڈ سے بھٹو صاحب کی سواری گزری تھی۔ 1977ء کے الیکشن سے کچھ پہلے کے دن ہوں گے۔ سردیاں تھیں۔ سامنے سڑک پر جب پولیس والے تعینات ہو جاتے تھے تو ہمیں معلوم ہو جاتا تھا کہ بھٹو صاحب یہاں سے گزرنے والے ہیں۔ وہ مال روڈ اور چوک عزیز ہوٹل کے راستے نواب صادق حسین قریشی کے گھر جایا کرتے تھے۔ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ بھٹو صاحب کی کابینہ میں جو بہت سے میر جعفر اور میر صادق شامل تھے نواب صادق حسین قریشی بھی انہی میں سے ایک تھا۔ تو ایک روز جب پولیس سکواڈ کے سائرن کی آواز سنائی دی تو میں بھاگتا ہوا ننگے پاؤں گھر سے باہر نکل آیا (مجھے نہیں یاد کہ اس سے پہلے یااس کے بعد کبھی میں ننگے پاؤں گھر سے نکلا ہوں) اور سڑک پر جا پہنچا۔ بس ایک لمحے میں بھٹو صاحب کی جیپ میرے سامنے سے گزر گئی۔ انہوں نے ماؤ کیپ پہن رکھی تھی اور وہ کھلی جیپ میں کھڑے تھے۔ بہت سے لوگ سڑک کے کنارے جمع تھے۔ سب نے تالیاں بجائیں میں نے بھی تالیاں بجائیں۔ بہت زور زور سے تالیاں بجائیں۔اورجب بھٹوصاحب نے ہاتھ ہلایا تو مجھے محسوس ہواکہ جیسے انہوں نے مسکرا کر میری ہی تالیوں کا جواب دیاہے۔ اور 10 اپریل کو بھی میں یہ سمجھ رہا تھا کہ بے نظیر بھٹو نے صرف میرے ہی نعرے کا جواب دیا ہے۔ بہت جذباتی لمحہ تھا شاکر۔ ایک آنسو میری آنکھوں سے نکلا اور میرے ساتھ کھڑے شخص کے دامن میں جذب ہو گیا کہ اس ہجوم میں وہ آنسو سڑک پر گر ہی نہیں سکتا تھا اسے جذب کرنے کے لیے بہت سے کندھے اور بہت سے دامن موجود تھے۔ مجھے تو امید ہی نہیں تھی کہ میں ٹرک کے قریب پہنچ سکوں گا میں صفانوالہ چوک سے گھسٹنا شروع ہوا تھا۔ تاحدِ نظر سر ہی سر تھے۔ ریگل چوک بہت دور تھا۔ ایک بار تو یوں لگا کہ میں کبھی چوک تک نہ پہنچ سکوں گا۔ پھر ایک ریلا آیا اور مجھے اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ میں خود تو نہیں چل رہا تھا بس لوگ چل رہے تھے۔ ایک سیلاب تھا انسانوں کا جس کے ساتھ میں بہہ رہا تھا۔ یہ سیلاب مجھے چوک کے قریب لے آیا اور پھر میں لوگوں کو چیرتا ہوا چوک میں لگے لوہے کے پائپوں تک پہنچ گیا۔ میں نے مسجد شہداء کے سامنے سڑک کنارے فٹ پاتھ کے ساتھ لگے لوہے کے پائپوں کو تھام لیا اور یہی پائپ میرا سہارا بن گئے ۔ اب ہجوم مجھے سڑک سے دور نہیں کر سکتا تھا کہ جب کوئی ریلا آتا اور مجھے دھکیلنے کی کوشش کرتا تو میں ان پائپوں کو مضبوطی سے تھام لیتا تھا۔ وہ پائپ مجھے دوسری جانب نہیں جانے دیتے تھے۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اس سے مناسب جگہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ تاحدِ نظر ہجوم، سجے ہوئے ٹرک اور گاڑیاں۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بے نظیر والا ٹرک یہاں سے گزر چکا ہے یا ابھی آنے والا ہے۔ ہر طرف ایک جیسا جوش و خروش، ایک سے نعرے، لہراتے پرچم اور ڈھول تاشے، کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ کسی سے پوچھنا بھی چاہا تو معلوم نہ ہو سکا کہ بے نظیر صاحبہ نے ریگل چوک کراس کر لیا ہے یانہیں۔ لیکن مختلف مکانوں، درختوں اور ٹریفک سگنلز والے کھمبوں پر شست لگا کر بیٹھے ہوئے فوٹو گرافروں کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ ٹرک ابھی تک یہاں نہیں پہنچا۔ اور ایک مزے کے بات سنو۔ ٹریفک سگنل کا ایک پائپ جو دوہرا ہو کر سڑک کے کم و بیش درمیان تک آتا ہے اس پائپ پر فوٹو گرافر فاضل بھٹی ٹانگیں پھنسا کر بڑی مہارت سے بیٹھا تھا۔ فاضل بھٹی تو تمہیں اچھی طرح یاد ہو گا۔ نوائے وقت ملتان کے لیے فوٹو گرافی کرتا تھا۔ گنجا سا، دبلا پتلا۔ جو کیمرے کے شٹر کے ساتھ اپنا منہ کھولتا تھا اور بعض اوقات جب کوئی تقریب طوالت اختیار کرتی تو کرسی پر منہ اور کیمرہ بند کر کے سو بھی جاتا تھا۔ آج کل وہ لاہور ہی میں ہے۔ اس خطرناک پوزیشن میں بیٹھا کیمرے کے نہیں اپنی عینک کے شیشے صاف کر رہا تھا۔ میں دو بجے سے یہاں کھڑا تھا۔ اور پھر رفتہ رفتہ ٹرک کے آثار دکھائی دیئے۔ ٹرک آہستہ آہستہ رینگتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ اور اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور ہو رہی تھیں۔ سرخ گلاب کے پھول بھٹو کی تصویر بے نظیر پر نچھاور کئے جا رہے تھے۔ چھتوں سے عورتیں دوپٹے پھینک رہی تھیں اور بے نظیر وہ دوپٹے اپنے سر پر اوڑھ رہی تھیں۔ خوشی سے تمتماتا چہرہ۔ سر پر چلچلاتا سورج، صبح چھ بجے سے وہ ٹرک میں کھڑی تھیں اور اب 3 بج چکے تھے۔ سامنے ایک مکان کی چھت پر ایک عورت آئس کریم کھا رہی تھی۔ بے نظیر نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ آئس کریم مجھے بھی کھلاؤ۔ عورت نے آئس کریم ٹرک کی طرف اچھال دی۔ آئس کریم کا کچھ حصہ ہجوم پر بھی گرا مگر وہ آئس کریم بے نظیر تک پہنچ ہی گئی۔ انہوں نے اس عورت کا شکریہ ادا کر کے وہ آئس کریم کھانا شروع کر دی۔ فضا ’’نعرہ نعرہ نعرۂ بھٹو، جیوے جیوے جیوے بھٹو‘‘ سے گونج اُٹھی۔ بے نظیر کو شاید خود بھی اتنے بڑے استقبال کی توقع نہ ہو گی۔ میرا ہی نہیں دو چار روز پہلے تک ہر شخص کا یہی خیال تھا کہ بس مناسب سا استقبال ہو گا۔ یہ تو کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ پورا پاکستان لاہور میں اُمڈ آئے گااور لاہور کی سڑکیں تنگ پڑ جائیں گی۔ ٹرک آہستہ آہستہ آگے نکل گیا۔ اب دوبارہ اس ٹرک کے قریب پہنچنا ممکن ہی نہیں تھا۔سو میں ہجوم میں گم ہو گیا۔ جلوس کی مخالف سمت میں چلنے لگا یہ دیکھنے کے لیے کہ یہ جلوس کتنا طویل ہے۔ اس جلوس میں بہت سے رنگ تھے۔ سندھی، بلوچی، پٹھان اور پنجابی سب اس کارواں میں شریک تھے۔ ہر زبان میں لکھے ہوئے استقبالیہ بینر، ہر صوبے کا لباس، یہ جلوس نہیں تھا یہ پاکستان کا کلچر تھا۔ کلچر جو آزادی کے نعرے لگا رہا تھا۔ ہجوم مشتعل ہونے کے باوجود نظم و ضبط میں تھا۔ غصہ صرف چہروں اور نعروں سے عیاں تھا۔ ’’امریکہ نے کتا پالا، کالی کالی مونچھوں والا‘‘۔ بھئی کیا زبردست نعرہ ہے۔ بس مجھے لفظ مونچھوں پر اعتراض ہے یہاں اگر مونچھوں کی جگہ ’’تسموں‘‘ استعمال کیا جاتا تو نعرہ مزید بامعنی ہو جاتا اور بھٹو صاحب کی روح بھی خوش ہوتی کہ انہوں نے سہالہ ریسٹ ہاؤس میں جنرل ضیاء کی مونچھوں کے تسمے بنانے ہی کی تو بات کی تھی۔ اور بات یہیں سے تو شروع ہو کر پھانسی تک پہنچی تھی۔
۔۔۔
اب مجھے مینار پاکستان جانا تھا۔ جہاں جلوس کے اختتام پر جلسۂ عام ہوگا۔ میں جلوس کے پہنچنے سے پہلے وہاں پہنچنا چاہتا تھا تاکہ وہاں بھی کوئی مناسب جگہ مل سکے۔ مینار پاکستان۔ ایک تاریخی جگہ کہ جہاں 1940ء میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی اور یہی مینارِ پاکستان آج 10 اپریل کو ایک اور تاریخی منظر دیکھنے والا تھا۔ کہتے ہیں کہ کسی کے جلسے کو ناکام کرنا ہو تو اسے مینارِ پاکستان لے جاؤ کہ منٹو پارک کے گراؤنڈ اتنے وسیع ہیں کہ بھرنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ لاکھوں لوگ بھی سما جائیں تو گراؤنڈ خالی نظر آتا ہے۔ مگر شاکر آج یہ گراؤنڈ چھوٹے پڑ گئے تھے۔ میں جلوس کی آمد سے بہت پہلے وہاں پہنچا تو گراؤنڈ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ بادشاہی مسجد اور شاہی قلعے میں بھی لوگ ہی لوگ تھے بھاٹی گیٹ تک تِل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ محتاط اندازہ ہے کہ جلسے میں 15 لاکھ افراد تھے مگر بی بی سی کا تبصرہ بہت اچھا ہے کہ وہاں اتنی خلقت تھی کہ جسے گِنا نہیں جا سکتا ۔ بے نظیر بھٹو جب وہاں پہنچیں تو شام ہونے والی تھی۔ ٹرک کو سٹیج تک لے جایا گیا اور پھر بے نظیر بھٹو کی آواز سنائی دی۔ ان کا لب و لہجہ انگریزی تھی۔ اردو انہیں ٹھیک طرح بولنا نہیں آتی۔ مگر جوش اور ولولہ بے پناہ ہے۔ واقعی بھٹو کی تصویر، بلکہ بھٹو کی تقریر، بے نظیر نے جلسے میں ایک نظم پڑھی ’’میں باغی ہوں، میں باغی ہوں ۔۔۔ جو چاہے مجھ پر ظلم کرو‘‘ ۔ بڑی زور دار نظم تھی وہ نظم انہوں نے بہت پرجوش طریقے سے پڑھی اور پھر جلسے کا اختتام ہوا۔ اختتام بھی زور دار تھا۔ بے نظیر بھٹو نے لاہوریوں کے انداز میں ’’ضیاء الحق جاوے ای جاوے‘‘ کا نعرہ لگا کر سب کو نہال کر دیا۔ اور پھر ’’جاوے ای جاوے، جاوے ای جاوے‘‘ کو اس تواتر سے کہا کہ باقاعدہ ردھم بن گیا۔ پوری خلقت ’’جاوے ای جاوے‘‘ کہنے لگی۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تو جلسہ ختم ہو گیا لیکن جلسہ ختم کہاں ہوا تھا۔ ’’جاوے ای جاوے‘‘ کا نعرہ واپس جانے والے قافلوں کا زادِ سفر بن گیا تھا۔ اب پاکستان کی ہر گلی اور محلے میں ’’ضیاء الحق جاوے ای جاوے‘‘ کا نعرہ سنائی
۔۔۔ ۔۔
۔۔تیرہ اپریل 1986 ء لاہور ۔۔
یہ تھا اس جلسے اور استقبال کا احوال اور اس مینار پاکستان کے گراؤنڈ کا منظر نامہ جس کا حوالہ آج بھی تسلسل کے ساتھ دیا جاتا اس گراؤنڈ کو اگر کسی سیاسی رہنما نے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں تبدیل کیا تو وہ بے نظیر بھٹو ہی تھیں کہ اس زمانے میں تو جلسہ گاہ میں کرسیاں رکھنے کا بھی رواج نہیں تھا ۔۔

رضی الدین رضی
ستائیس دسمبر دو ہزار تیئیس

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleنصرت جاویدکاتجزیہ:ریاست و حکومت کی اپنا "سودا” بیچنے میں ناکامی
Next Article سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا

اکتوبر 17, 2026

ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

اکتوبر 16, 2026

گورنر راج کے بعد حکمران اتحاد میں اختلافات : ’ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں‘ : محسن نقوی

اکتوبر 16, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا اکتوبر 17, 2026
  • ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ اکتوبر 16, 2026
  • گورنر راج کے بعد حکمران اتحاد میں اختلافات : ’ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں‘ : محسن نقوی اکتوبر 16, 2026
  • ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم / زبانوں کے خاندان اکتوبر 16, 2026
  • پشاور میں سکول کی چھت گرگئی : اٹھائیس بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی اکتوبر 15, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.