وہ ایسا ہے یا ایسا ہو گيا ہے؟؟وہ ایسا تھا یا پھر ایسا لگتا تھا مجھے؟؟ محبت عزت اور اعتبار دینے کا دعوی کرنے والا ۔۔۔۔ اندھیرے کے خوف میں مجھے اپنے ہونے سے تحفظ کا احساس دلانے والا۔۔۔تمام زندگی ساتھ چلنے اور دونوں جہانوں میں ساتھ رہنے کا متمنی۔۔لیکن اس کی محبت موسم کے ، عزت موقع کے ،اعتبار کسی اور کے دھوکے کی ہلکی سی چوٹ سے فوراً روٹھ جاتی ہے ،ٹوٹ جاتی ہے اعتبار کی ریشم چادر کتنا ہی زور سے پکڑو ہاتھ سے چھوٹ جاتی ہے ۔۔۔جب وہ دوسروں کی چيخ و پکار پر کان بند کر کے مجھ سے بے نیاز گزر جاتا ہے، مجھے مصلحت کے نام پر محفل میں تنہا چھوڑ جاتا ہے،اتنے عرصے سے مجھے جاننےکے باوجود میری آنکھوں پر اعتبار کی بجاۓ مجھ پر وار کرنے والوں کو حق پر گردانتا ہے، جو میرے بغیر زندگی کچھ نہیں کے راگ الاپتا ہے لیکن محفل میں ملے تو جانتا نہیں ہے پہچانتا نہیں ہے ۔۔۔
وہ ایسا ہی تھا ہمیشہ سے یا کہ اب ہو گيا ہے ۔۔۔یہ دل ہے کہ مانتا نہیں ہے۔۔۔میں اس کے بدلے بدلے رنگ ڈھنگ اور ترنگ دیکھ کر حیران رہ جاتی ہوں ۔۔۔میں الزام لگانے والوں کے ظلم کا کیا جواب دوں میں اس کی خامشی کے غم پر ہلکان ہوئی جاتی ہوں۔۔۔میرا دل دھڑکتا ہے خون بھی محو گردش ہے مگرمیں بے جان ہوئی جاتی ہوں۔۔۔میں بھری محفل میں سنسان ہوئی جاتی ہوں۔۔۔ اس کے لمس کی خوشبو میں ڈوبے ہوۓخط نکالتی ہوں اس کے پیغامات کے لفظوں کو پھر سے پڑھتی ہوں اور سوچتی ہوں ان کا مطلب وہی ہے جو میں نے سمجھا تھا۔۔۔مجھے اس کے صبح کے سلام میں یا دوپہر کے پیغام میں فکر اور رات کے عہد و پیمان میں محبت اور اعتبار نظر آتے تھے۔۔۔مجھے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے ستارے اور لبوں پر پھولوں بھرے گلدان دکھائی دیتے تھے ۔۔ دوریاں سمٹی ہیں ،وصل کا وقت آیا ہے تو مجھے اس کا یہ الگ سا چہرہ نظر آيا ہے۔۔۔۔جس چہرے پر میرے لیے کوئی جان پہچان نہیں عزت اور مان کی رمق نہیں۔۔۔
مجھے دیکھتے ہوۓ اس کی آنکھوں میں کوئی دھنک نہیں۔۔۔اس کی باتوں میں لو دیتی ہوئی دھمک نہیں، اس کی چال میں وہ ترنگ نہیں میرے ساتھ تو ہے پر میرے سنگ نہیں۔۔۔محبت کے لاکھ لاڈ اٹھائيے بڑی طوطا چشم ہے تنہا نہیں محبوب بدل جاۓ تو محبت انتقال کر جاتی ہے۔۔۔۔یکطرفہ محبت والوں کو بےحال کر جاتی ہے۔۔
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

