اسلام آباد : توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنانے والے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ہمایوں دلاور کو اُن کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے او ایس ڈی (آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی) بنا دیا گیا ہے۔ہمایوں دلاور کے تبادے کا یہ نوٹیفیکشین اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی ہدایت پر جاری کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ ہمایوں دلاور نے بطور ٹرائل کورٹ جج سابق وزیر اعظم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں پانچ اگست کو قید کی سزا سنائی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ ایک نئی تخلیق کردہ پوسٹ ہے تاہم اس ضمن میں مزید تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔
ادھر توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنانے والے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ہمایوں دلاور نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط میں اپنے تبادلے کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ یہ خط 17 اگست کو لکھا گیا تاہم اس کی تفصیلات اس وقت سامنے آئی ہیں جب ہمایوں دلاور کو اُن کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے او ایس ڈی (آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی) بنا دیا گیا ہے۔
ہمایوں دلاور کے تبادے کا یہ نوٹیفیکشین اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی ہدایت پر جاری کیا گیا۔جج ہمایوں دلاور نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط میں لکھا کہ ’ایک سیاسی جماعت کے چیئرمین کے خلاف الیکشن ایکٹ کے تحت کریمنل کمپلینٹ کا فیصلہ سنایا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر میرے خلاف مہم چلائی گئی۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’سوشل میڈیا مہم کے باعث دنیا بھر کے مختلف افراد کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ میری فیملی کو بھی دھمکیاں موصول ہوئیں۔‘
خط میں جج ہمایوں دلاور ن یہ بھی لکھا کہ ’میرے بچوں کو سکول جانے میں دشواری اور ناخوشگوار صورتحال کا سامنا ہے، میرے اور میرے خاندان کے خلاف منظم مہم چلائی گئی۔‘ہمایوں دلاور کے مطابق برطانیہ میں ٹریننگ کے دوران دیگر جوڈیشل افسران کے ہمراہ ناخوشگوار حالات سے گزرنا پڑا اور ان وجوہات کی بنا پر درخواست ہے کہ میرا تبادلہ کسی اور جگہ کر دیا جائے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

