جنگ کچھ لڑتے ہیں اپنی زندگی کے واسطے
جنگ کچھ لڑتے ہیں اپنے آپ سے سب کیلئے
جنگ سب لڑتے ہیں لیکن مختلف حالات میں
اپنی اپنی ذات میں
اور پھر ایسے بھی ہیں کچھ صاحب علم و عمل
ذات سے اپنی نکل کر دوسروں کے ہمرکاب
خار چن کر جو اگاتے ہیں زمیں سے پھر گلاب
ساری دنیا کیلئے اور اپنی دھرتی کیلئے
کھینچتے ہیں وہ زمیں پر اپنی قدرت سے سحاب
جنگ لڑتے ہیں وہ ان سے بھیجتے ہیں جو عذاب
یہ ازل سے سلسلہ ہےوقت کا حالات سے
مصلحت سے وہ مبرا لوگ بھی آئے یہاں
جو صدا زندہ رہیں گے ہر صدی کے واسطے
ایک تیغ بے اماں ہیں ہر بدی کے واسطے
لکھ دیا ہے نام "قسور” اس صدی کے واسطے
( 25 دسمبر 1993 ۔۔قسور گردیزی کی یاد میں تعزیتی اجلاس میں پڑھی گئی )
جمعہ, ستمبر 25, 2026
تازہ خبریں:
- پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ
- پیٹرول ، ڈیزل پر جگا ٹیکس اور جماعتِ اسلامی کی ’’ نظریاتی سیاست ‘‘ : نصرت جاوید کا کالم
- پی ٹی آئی لانگ مارچ سے پہلے اسلام آباد کے راستے بند، اہم شاہراہوں پر کنٹینرز
- فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
- مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی

