کابل : افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستانی کے سفارت خانے پر حملہ کیا گیا جہاں ناظم الامور عبید الرحمٰن نظامانی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ محفوظ رہے جبکہ ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی ہوگیا۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے کمپاؤنڈ پر آج حملہ ہوا، جس میں مشن کے سربراہ عبید الرحمٰن نظامانی کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مشن کے سربراہ محفوظ ہیں، تاہم ایک پاکستانی سیکیورٹی گارڈ سپاہی اسرار محمد ناظم الامور کی حفاظت کرتے ہوئے شدید زخمی ہو گئے۔دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے کابل میں سفارت خانے پر حملے اور ناظم الامور کو نشانہ بنانے کی کوشش کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
افغان حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں عبوری حکومت فوری طور پر حملے کی جامع تحقیقات کرکے مجرموں کو گرفتار کرے اور ان کے خلاف کارروائی کرے۔دفترخارجہ نے بتایا کہ افغانستان میں پاکستانی سفارتی عملے کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستانی مشن کے سربراہ پر ’قاتلانہ حملے‘ کی شدید مذمت کی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بہادر سیکیورٹی گارڈ کو سلام پیش کرتے ہیں، جس نے ان کی جان بچانے کے لیے گولی کھائی، ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ میں اس گھناؤنے عمل کے مجرموں کے خلاف فوری تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے دوسرے ٹوئٹ میں بتایا کہ ابھی کابل میں سفارت خانے کے ناظم الامور عبید الرحمٰن نظامانی سے بات ہوئی ہے، سن کر تسلی ہوئی کہ وہ محفوظ ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے عوام اور حکومت کی جانب سے اظہار یکجہتی کیا، اور ہر لحاظ سے مشن کو مکمل تعاون اور مدد کا یقین دلایا ہے۔
سماجی رابطے کے ویب سائٹ پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ردعمل میں کہا کہ ابھی کابل میں پاکستان کے سفارت خانے کے ناظم الامور عبید الرحمٰن نظامانی سے بات ہوئی ہے، جو قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ ہم اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ہمارے سفارت کاروں کی حفاظت اور سلامتی نہایت اہم ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم بہادری پر سپاہی اسرار کو سلام کرتے ہیں اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
خیال رہے کہ کابل سفارت خانے میں مشن کے موجودہ سربراہ عبید الرحمٰن نظامانی ہیں، جنہوں نے 4 نومبر کو چارج سنبھالا تھا۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

