Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, جولائی 27, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • یہ کسی کی ہار جیت نہیں ۔ جنگ بند رہنا ضروری ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • "جھیل، سمندر اور سبزہ زار” کا ایک جمالیاتی جائزہ : سراج احمد تنولی کا کتاب کالم
  • جامعات کی گھٹن اور میرٹ کا تماشا : یاسر پیرزادہ : کا مکمل کالم
  • انسانی پلیسینٹا: شفا کا ذریعہ یا ضمیر کا سودا؟ شہزاد عمران خان کا کالم
  • بھارتی نوجوان جیت گئے : وزیرِ تعلیم کے مستعفی ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج ختم
  • بہار گزشت : وجاہت مسعود کی جیون کہانی کا ایک باب
  • حسن رضا گردیزی ۔سرائیکی اور انگریزی : رضی الدین رضی کا 1989 میں لکھا گیا مضمون
  • اٹھو، اب ماٹی سے اٹھو، جاگو میرے لال ( جنگ کے گم نام ہیرو ) – وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
  • آزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب اصل وارث آگئے ہیں، مریم نواز
  • ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کی ’ریڈ لائنز‘ کیا ہیں؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»اختصاریئے»سعودی عرب میں کیا کھچڑی پک رہی ؟ ۔۔ شاہد راحیل خان
اختصاریئے

سعودی عرب میں کیا کھچڑی پک رہی ؟ ۔۔ شاہد راحیل خان

ایڈیٹرجنوری 2, 20181 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
nawaz shahbaz
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

مقامات مقدسہ کی وجہ سے سعودی عرب کو عالم اسلام میں ایک خاص مقام حاصل ہے ہر مسلمان کے دل میں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ بستا ہے۔ خادمین حرمین شریفین کہلانے والے سعودی حکمرانوں کا احترام کیا جاتا رہا ہے۔ مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سعودی حکمران اپنا احترام عالم اسلام میں برقرار نہیں رکھ سکے اور اپنی مختلف پالیسیوں کی وجہ سے انہوں نے خود کو عالم اسلام کے ایک حصے میں متنازعہ بنا لیا۔خطہ عرب کی وہ مقدس سر زمین جو کبھی حجاز مقدس کہلاتی تھی اس پر انگریزوں کی سر پرستی میں خلافت عثمانیہ کا تختہ الٹ کر قابض ہونے والے آل سعود نے اس کا نام سعودی عرب رکھا اوراسلام کے دیگر مکاتیب فکر کی پرواہ کیئے بغیر ایک مخصوص فقہ کے عقائد و نظریات پر مشتمل اسلام نافذکر کے حکومت کی۔جسے مقامات مقدسہ کی محبت اور عقیدت میں عالم اسلام نے قبول کرلیا۔ میں جانتا ہوں کہ بہت سے قاریئن کو یہ جملے پسند نہیں آیئں گے مگر تاریخی حقیقت یہی ہے۔
سعودی عرب کا عالمی سیاست میں کیا کردار تھااس بات سے کم از کم پاکستانی عوام کو کوئی سروکار نہیں رہا ان کے نزدیک وہ ایک مقدس سرزمین کے حکمران اور قابل عزت و احترام تھے۔جنرل ضیاءالحق کے دور میںافغانستان میں روس کے خلاف لڑنے والوں کی امداد کرنے والوں میں سعودی حکومت پیش پیش تھی ۔یہ اس پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور تھا جب جہاد کے نام پر ایمان کو امتحان میں ڈالا گیا۔ بھٹو کی پھانسی کی صورت میں جنرل ضیاءکی طرف سے دیا گیا دکھ، دہشت گردی اور شریف خاندان کا تحفہ ہمیشہ یاد رکھے جایئں گے ۔ پاکستان پر سعودی حکمرانوں کا اثر رسوخ اس وقت کھل کرپاکستانی عوام کے سامنے آیا جب پاکستانی عدالت میاں نواز شریف کو طیارہ اغوا کیس میں سخت سزا سنا کرجائیداد کی ضبطی کے احکامات صادر کر چکی تھی۔سعودی حکمران میاں نوز شریف کو خصوصی طیارے میں ان کے خاندان سمیت اڑا لے گئے یہ ایک مفاہمتی جلا وطنی تھی جو شریف خاندان کو خوب راس آئی اور آل شریف نے آل سعود کے ساتھ ذاتی و کاروباری تعلق استوار کئے۔ طرفہ تماشہ یہ ہوا کہ وہی عدالتیں جنہوں نے میاں نواز شریف کو سزائیں سنایئں تھیں، انہی نے بعد ازاں ایک این آر او کے نتیجے میں میاں صاحب کو بری کر دیا۔ شریف برادران گزشتہ چار پانچ روزسعودیہ میں تھے۔ شہباز شریف واپس آچکے ہیں اور نواز شریف کی واپسی کی اطلاع ہے۔اس اچانک دورے کا مقصد کیا تھاکوئی نہیں جانتا۔ ایک اور این آر او کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے اور تردید بھی۔ خبریں بڑی متضاد ہیں۔ پاکستان میں عجیب تماشہ لگا ہوا ہے ۔سعودیہ سے افواہیں آ رہی ہیں کہ شریف برادران سے پوچھ گچھ کے لیئے ” بلاوہ “ آیا تھا۔ سعودی شہزادے جو کرپشن کے سنگین الزامات کی زد میں ہیں، ان میں سے کسی ایک نے شریف خاندان کے ساتھ کاروباری شراکت کا انکشاف کیا ہے۔سابق صدر آصف زرداری پوچھ رہے ہیں کہ سعودی عرب میں کیا کھچڑی پک رہی ہے؟ رانا ثناءاللہ کا دعویٰ ہے کہ میاں نواز شریف مسلم دنیا کو درپیش مسائل کے حل کے لیئے سعودیہ گئے تھے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ نہ تو سعودی عرب میں شاہ فیصل حکمران ہیں اور نہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو۔ مسلم دنیا قیادت کے ضمن میں قحط الرجال کا شکار ہے ۔ پاکستان میں بھی قیادت کا فقدان ہے ۔ معاملات پاکستان میں ہی نہیں عالم اسلام میں بونوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے شہید بھٹو کی جگہ سنبھالی تھی اور قیادت کے خلاءکو پر کیا تھا مگر ان کے بلاوجہ بہیمانہ قتل سے جو خلاءپیدا ہوا وہ ابھی تک تو پر نہیں ہو سکا ۔مریم نواز، بے نظیر بھٹو شہید کی طرح اپنے والد کی جانشین بننے کے لیئے بے قرار ہیں خیر۔چھوٹے میاں صاحب سعودیہ سے واپس آگئے ہیں۔ بڑے میاں صاحب کی واپسی متوقع ہے۔اپنے لیئے کوئی سلامتی کی ضمانت لے کر آئے ہیں؟یاشراکتی مال کا حساب دے کر؟اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleشاہ رخ خان ٹھگنے کیسے ہوئے ؟
Next Article صد افسوس! غیرت بھی لبرل ہو گئی ۔۔ وجاہت مسعود
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

یہ کسی کی ہار جیت نہیں ۔ جنگ بند رہنا ضروری ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ

جولائی 27, 2026

"جھیل، سمندر اور سبزہ زار” کا ایک جمالیاتی جائزہ : سراج احمد تنولی کا کتاب کالم

جولائی 26, 2026

جامعات کی گھٹن اور میرٹ کا تماشا : یاسر پیرزادہ : کا مکمل کالم

جولائی 26, 2026
Leave A Reply

حالیہ پوسٹس
  • یہ کسی کی ہار جیت نہیں ۔ جنگ بند رہنا ضروری ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ جولائی 27, 2026
  • "جھیل، سمندر اور سبزہ زار” کا ایک جمالیاتی جائزہ : سراج احمد تنولی کا کتاب کالم جولائی 26, 2026
  • جامعات کی گھٹن اور میرٹ کا تماشا : یاسر پیرزادہ : کا مکمل کالم جولائی 26, 2026
  • انسانی پلیسینٹا: شفا کا ذریعہ یا ضمیر کا سودا؟ شہزاد عمران خان کا کالم جولائی 26, 2026
  • بھارتی نوجوان جیت گئے : وزیرِ تعلیم کے مستعفی ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج ختم جولائی 25, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.