اسلام آباد : پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہےکہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک گھنٹےمیں اقوام متحدہ (یو این) کے رکن ممالک سے تقریباً ایک کھرب 30 ارب روپےجمع کرلیے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ امریکا نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل کے بعد پاکستان کو ساڑھے 6 ارب روپے کی امداد دی، چین، ترکیہ، برطانیہ، آذربائیجان، سعودی عرب، قطر، کویت اور یو اے ای و دیگر ممالک نے فوری امداد کا اعلان کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جانب سے نقد امداد کے علاوہ ٹینٹ، ادویات اورکھانے پینے کی اشیاء سمیت دیگر اہم سامان کی بھی امداد دی جارہی ہے۔
اعلامیہ پیپلزپارٹی کے مطابق بلاول بھٹو کی اپیل پر ورلڈبینک اور اے ڈی بی نے مثبت ردعمل دیا ہے، ان کے علاوہ ڈبلیو ایچ او، یونیسیف، ہلال احمر اور ریڈکراس نے بھی مثبت ردعمل دیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے مطابق چین کے امدادی ادارے نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 6 کروڑ 66 لاکھ روپے کی امداد دی، یورپی یونین نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 30 کروڑ روپےکی امداد دی، برطانیہ نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 33 کروڑ 30 لاکھ روپے کی امداد دی، یونیسف، عالمی ادارہ صحت، یونائیٹڈ نیشن پاپولیشن فنڈ نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 66 کروڑ 60 لاکھ روپے کی امداد دی، اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے ساڑھے 35 ارب روپے کی امداد دی۔
( بشکریہ : جیو نیوز )
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

