ملتان:ایوان تجارت وصنعت ملتان کے صدر خواجہ محمد حسین نےکہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ صنعتی و کاروباری شعبہ کے لئے نئے مسائل پیدا کرے گا۔ حکومت نےعوام کو ریلیف دینے کی بجائے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔
گزشتہ روز جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نےسال 2021 کے دوران بجلی کی قیمتوں میں کبھی بنیادی ٹیرف بڑھا کر تو کبھی سہ ماہی ایڈجسمنٹ کا بوجھ ڈال کرمجموعی طور پرصارفین پر 600 ارب روپے سے زائد وصول کئے۔
بجلی کی فی یونٹ قیمتوں میں حالیہ اضافے کو صنعتکاروں پر بوجھ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صنعتی مقاصد کیلئے بجلی کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ کے باعث پاکستان خطہ میں مہنگی ترین بجلی فراہم کرنے والا ملک بن گیا ہے ۔پاکستان کی نسبت بھارت میں بجلی 100فیصد سستی جبکہ بنگلہ دیش میں بجلی 300فیصد سستی فراہم ہورہی ہے، مہنگی بجلی کے باعث پاکستان میں بننے والی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ سے بیرون ملک پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں کمی واقع ہورہی ہے پاکستان میں مہنگی ترین بجلی برآمدات میں کمی کا باعث بنے گی جس کی وجہ سے حکومت کے ریونیو میں بہت زیادہ کمی واقع ہوگی ۔ بجلی بلوں میں ود ہولڈنگ ٹیکس، انکم ٹیکس اور دوسرے ٹیکسوں کے باعث پیداواری لاگت بڑھے گی، مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ سے مہنگائی بڑھے گی اور عوام کی قوت خرید میں کمی واقع ہوگی ،
انہوں نے کہا کہ بجلی مہنگی کرنا مسائل کا حل نہیں سستی بجلی کے لیے حکومت پن بجلی کی طرف توجہ دے 60ہزا رمیگا واٹ بجلی پانی سے حاصل کی جاسکتی ہے جوصرف2روپے یونٹ پڑے گی اس لیئے حکومت مہنگی بجلی بنانے پر انحصا ر کم کرے۔اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کی بجائے کمی کی جائے ۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلی کا خمیازہ ملک بھر کے عوام بھگتنے پر مجبور ہیں۔ بجلی کی ترسیل یعنی ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن (T&D) نقصانات، بجلی کی چوری، بلوں کی عدم ادائیگی اور ان کمپنیوں کی نااہلی کا بوجھ بجلی کے نرخ بڑھا کر عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں مقابلے کیلئے ہماری بجلی اور گیس کے نرخ تقا بلی ہونے چاہئیں،بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست تعلق افراط زر یعنی مہنگائی سے ہوتا ہے۔حکومت اس بارے سنجیدگی سے کام کرے اور بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کےلئے اقدامات عمل میں لائے جائیں۔

