عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادانوم نے با لآخر عالمی وبا کرونا وائرس کے علاج کیلئے تیار کردہ ویکسینوں کی آزمائش جانچ پڑتا ل میں آنے والے مثبت نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ دنیا اب اس وبا کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتی ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ امیر اور طاقت ور ممالک ویکسین کی بھیڑ میں غربت اور دیوار سے لگے مختلف ممالک کے شہریوں کو کچلا نہ جائے،روشنی سرنگ کے آخری سرے تک جانی چاہیے اور ویکسینوں کو عالمی عوامی ملکیت کے طور پر مساوی تقسیم کویقینی بنایا جائے کیونکہ جب غریب ممالک نے ویکسین خریدنے کی کوشش کی تھی تو ان کیلئے دستیاب نہیں یا قیمت بہت زیادہ تھی ضروری ہے کہ اس کی تقسیم سے عدم مساوات کی خلیج بڑھنے نہ پائے،عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے مزید خبردار کیا کہ کورونا وائرس کی ویکسین سے غربت،بھوک،عدم مساوات اور موسمیاتی تبدیلی ایسے گہری جڑیں رکھنے والے مسائل حل تو نہیں ہوں گے تاہم اس وبا کے خاتمے کے بعد ان پر کام کیا جاسکتا ہے اگر دنیا اس طرح کے بڑے پیمانے کے ایک بحران سے بچنا چاہتی ہے تو صحت عامہ کے بنیادی نظام پر سرمایہ کاری کی طرف توجہ کرے۔ٹیڈروس ادانوم نے یہ بات ایسے موقع پر کہی ہے جب امریکہ،روس،برطانیہ،جرمنی،چین سمیت متعددممالک ویکسین کی تیاری مکمل کرچکے ہیں بلکہ برطانیہ پہلا ملک ہوگیا جس نے اس کا استعمال شروع کردیا ادھر روس نے بڑی تعداد میں ویکسین لگانے کا اعلان کردیا ہے اور ایک آدھ روز میں مزید ممالک یہ کام شروع کرچکے ہوں گے مگر ان میں سے کسی نے بھی ان نکات کی طرف توجہ نہیں کی جس کی طرف عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کروائی ہے ۔
ادھر پاکستان میں حکومت نے ویکسین کی خریداری کیلئے نہ صرف فنڈز مختص کردئیے ہیں بلکہ ان کمپنیوں سے گفتگو کا آغاز بھی کردیا ہے،اب یہ کس سے خریدنے میں کامیاب ہوتے ہیں یہ چند دنوں میں فیصلہ ہوجائے گا۔کیونکہ کرونا کی دوسری لہر ملک بھر میں بے قابو ہورہی ہے ہزاروں کی تعداد میں روزانہ نئے کیسسز رپورٹ ہورہے ہیں،گنجان آباد علاقوں اور بڑے شہروں میں یہ زیادہ حملہ آور ہورہا ہے اور ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہورہی ہے لیکن حکومت کے ساتھ اپوزیشن اور عوام ایس او پی پر عملدرآمد کرنے کو تیار نہیں ہیں ایسی صورت میں اس وبا کا پھیلنا باعث تشویش ہے جو ہماری اقتصادی سرگرمیوں کو منفی رجحان کی طرف لے کر جارہا ہے جو ملک میں مزید غربت کا باعث اورلاکھوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں گے،اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام نے اس کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروائی ہے اور اس خطرے کا اظہار کیا ہے کہ 2021ء میں متعدد ممالک کیلئے آفت زدہ ثابت ہوسکتا ہے،دنیا بھر میں کورونا وبا اور جاری جنگوں کے باعث انسانی ضروریات میں 200فی صد اضافہ ہوچکا اور پہلے بہت زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نچلی سطح پر چلے گئے ہیں بین الاقوامی امداد میں کمی سے غریب ممالک خوراک حاصل کرنے کی استطاعت کھو رہے ہیں جس سے دنیا ایک نئے بحران کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوجائے،عالمی ادارے کی اس وارننگ کو دنیا کس طرح لیتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر پاکستان میں ایسی وارننگ پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی اور نہ اسے سنجیدہ لیا جارہا ہے حالانکہ یہ بات وفاقی و صوبائی حکومتوں کو معلوم ہے کہ ملک میں خوراک کی کمی پوری کرنے کیلئے فصلوں کی کاشت میں کمی ہورہی ہے جبکہ زرخیز زمینوں پر رہائشی کالونیوں کی تعمیر مزید براں ہے اس صورت حال میں ضروری تھا کہ حکومت عالمی ادارے کی وارننگ کو سنجیدہ لیتی اور ہنگامی بنیادوں پر خوراک مہیا کرنے والی فصلوں کی کاشت میں اضافے کیلئے اقدامات کرتی۔
ادھر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پی ڈی ایم کی توجہ کروائی ہے کہ حکومت جلسوں سے نہیں بلکہ آئینی مدت پوری ہونے پر ختم ہوگی تاہم آس لگانے والے مزید انتظار کریں کہ آنے والا وقت بھی تحریک انصاف کا ہی ہے،وفاقی وزیر نے بوسیدہ اور کرپٹ نظام کو ختم کرنے کا دعویٰ بھی کیا اور اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ملکی ترقی اور تبدیلی ہضم نہیں ہورہی،پی ڈی ایم میں شامل سیاستدان دراصل ملکی ترقی کے دشمن ہیں جو ملک کو ترقی کی راہ پر چلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے ان کا شور دراصل این آر او کیلئے ہے مگر انہیں لوٹی ہوئی دولت کا حساب دینا پڑے گا۔حکومت ان کے ناکام جلسوں سے خوفزدہ نہیں ہم عوام کی زندگیاں محفوظ کرنا چاہتے ہیں،موجودہ حالات میں سیاسی جلسوں سمیت بڑے اجتماعات کورونا کے پھیلاؤ کیلئے خطرناک ہیں اپوزیشن جماعتیں جلسوں کی پالیسی پر نظر ثانی کریں اور جب کرونا ختم ہوجائے گا تو جلسے جلوس نکال لیں۔دوسری طرف سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے وزیر اعظم عمران خان سے شکوہ کیا ہے کہ کنٹینروں اور سہولتوں کی آفر کرکے جبر سے آزمایا جارہا ہے،اپوزیشن قیادت نے عوام کو آگے کیا ہم اپنے بچوں کو آگے لائے آصفہ بھٹہ زرداری جلسہ میں شرکت کیلئے آئیں میرے تین بیٹوں پر مقدمات بنائے گئے اور گرفتار کیا گیا لیکن اس کے باوجود ملتان کا جلسہ کامیاب رہا اور اب لاہور کا جلسہ بھی کامیاب ہوگا۔دوسری طرف پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت رٹ ختم اور عمران خان ہر چیز سے لا تعلق ہوچکے ہیں ہم اگلے اجلاس میں آئندہ ایجنڈے کا فیصلہ کریں گے تاہم تمام نظریں لاہور جلسہ پر ہیں ہم بڑی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور حکومتی عزائم کو مسلسل شکست ہورہی ہے اور ہم حکومت کے خاتمے تک جدوجہد کریں گے جس پر تمام ڈیمو کریٹس متحد ہیں ادھر معروف بزرگ سیاسی رہنما اور سابق اپوزیشن لیڈر تمن سردار شیر باز خان مزاری 90سال کی عمر میں خالق حقیقی کو جاملے وہ نواب اکبر بگٹی مرحوم کے برادر نسبتی،سابق نگران وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری کے بھائی تھے،دو مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہے سیاست کا آغاز محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم سے شروع کیا اور 1970ء میں پہلی دفعہ قومی اسمبلی پہنچے اور آئین پاکستان کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا،1975ء سے 1977ء تک پیپلز پارٹی کی حکومت کے اپوزیشن لیڈر رہے،نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما رہے بعدازاں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بنائی اور عرصہ تک اس کے سربراہ رہے اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی میں گزارے انہیں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔
اتوار, اکتوبر 25, 2026
تازہ خبریں:
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

