پشاور:پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں توہین رسالت کے مقدمے میں ملزم کو عدالت میں جج کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ بدھ صبح سیشن جج شوکت علی کی عدالت میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ملزم طاہر احمد نسیم کو عدالت میں مقدمے کی سماعت کے لیے لے جایا گیا تھا جہاں ایک شخص عدالت میں داخل ہوا اور ان پر فائرنگ کر دی۔پولیس کے مطابق حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پشاور کے تھانہ شرقی میں موجود پولیس اہلکاروں نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ ملزم طاہر احمد نسیم پشاور کے رہائشی تھے اور گذشتہ کچھ عرصے سے توہین رسالت کے ایک مقدمے میں جیل میں تھے۔
پولیس کے مطابق جب طاہر احمد کو جیل سے عدالت میں پیش کرنے کے لیے لایا گیا تو وہاں موجود لوگوں کے مطابق اس دوران خالد نامی شخص آیا اور طاہر احمد سے بحث کی جس کے بعد خالد نے کمرۂ عدالت میں طاہر احمد پر فائرنگ کر دی جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔
پشاور شہر کے پولیس افسر محمد علی گنڈہ پور نے صحافیوں سے مختصر بات چیت میں بتایا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس واقعے کے بارے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق طاہر احمد نسیم کے خلاف 25 اپریل 2018 کو تھانہ سربند میں تعزیرِات پاکستان کی دفعات کے تحت توہینِ رسالت اور توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔طاہر احمد کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق تھانہ سربند کو نوشہرہ کے رہائشی اور اسلام آباد کے ایک مدرسے میں زیرِ تعلیم طالبعلم کی جانب سے درخواست ملی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ طاہر احمد نسیم توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے اور اس بارے میں یو ایس بی میں تفصیلات بھی فراہم کی گئی تھیں۔
پولیس کو دی گئی تحریری درخواست میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ طالبعلم کی طاہر احمد کے ساتھ بات چیت فیس بک پر شروع ہوئی اور پھر ان کی ملاقات پشاور میں ہوئی جہاں طاہر احمد نے ایسی باتیں کی جو توہین رسالت کے زمرے میں آتی ہیں۔
اس واقعے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ خبریں بھی گردش کرنے لگیں کہ ہلاک ہونے والے شخص کا تعلق احمدیہ جماعت سے تھا تاہم جماعتِ احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے ایک بیان میں اس دعوے کو رد کیا ہے۔
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ شخص ایک احمدی گھرانے میں پیدا ضرور ہوا تھا تاہم اس نے کئی برس پہلے اس فرقے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور ان کا جماعتِ احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)
اتوار, ستمبر 20, 2026
تازہ خبریں:
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ رہائی کے بعد دوسرے مقدمے میں گرفتار
- ماہرہ خان اور قوم کو مبارک ہو : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

