کھجور کے بلند قامت درخت کے سائے تلے کبھی کسی راہگیر کو راحت نہیں ملی،برگد کے پیڑ تلے دوسرا برگد اگتا کسی نے نہیں دیکھا۔ساری زندگی شرافت اور دیانت کا معیار لئے اپنی گردنوں میں فولادی سریے فٹ کئے جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کو ہمیشہ آمریت کی گود میں پنپتا ہوا دیکھا گیا۔وزیر اعظم بننے کا خواب عمر کے آخری حصے تک تعبیر سے خالی رہا مگر جمہوری مزاج نہ بن سکا کہ شائد ان کو اپنے علاوہ کوئی پسند ہی نہیں آیا۔ان کی یہی خود پسندی سیاسی میدان میں انہیں تنہا کرتی گئی۔
میری تیسری نسل بغیر فیض پائے ایک ہی سیاسی گھرانے کی تابعدار رہی مگر ہم اپنے بزرگوں جیسا یکطرفہ تعلق نہیں نبھا سکتے۔ہم تین تین گھنٹے انتظار گاہوں میں نہیں بیٹھ سکتے کہ ہم زر خرید غلاموں جیسی بندگی برداشت نہیں کرسکتے۔وہ ہمارے اجداد تھے جو اپنے پیٹ کاٹ کر علاقے میں سیاسی دھڑے چلاتے تھے۔ بدلے میں صرف برادری کی مخالفت کے سوا کچھ نہیں ملتا تھا۔ہمیں گزشتہ دنوں ایک دوست نے کام کہا کہ دبئی میں پاکستانی سفیر سے کہہ کے وہاں پر رکے دوستوں کی واپسی کا اہتمام کرنا ہے تو آپ کے حلقے کے لیڈر بین الاقوامی امور کے ماہر ہیں تو ان سے کام کروا دیں ۔ ہم نے اپنے لیڈر سے کئی بار رابطہ کیا مگر کامیابی نہ ملی۔سولہ سال بعد نہ چاہتے ہوئے دوست کی محبت میں ان کے دولت کدے پر پہنچے تو تین گھنٹے انتظار گاہ میں بٹھا کر ہمیں ہماری اوقات یاد دلائی گئی۔ہم واپس نکلنے ہی والے تھے کہ صاحب نمودار ہوئے اور معذرت کا رسمی اظہار کرکے ایک اور ستم ڈھا دیا کہ کچھ مہمان آئے ہوئے تھے اس لئے دیر ہوگئی جیسے ہم مہمان کے معیار پر پورا نہ اترتے تھے۔ ہم نے اپنا کام بتایا جسے انہوں نے پوری کوشش کا وعدہ کیا اور ہم کوچہ مرشد سے نکل آئے۔
ہم نے چار روز مسلسل رابطہ کیا مگر قبرستان سی خامشی ملی۔سرد مہری اور بے نیازی تو ان کی رگوں میں دوڑتے خون کی مانند ہے۔تنگ آکر ہم نے ایک سینئر صحافی اور مہان کالم نگار کو وٹس آپ میسج کیا اور پھر ہمارے سینئر دوست نے اتوار کی صبح چھ بجے بتایا کہ ان کی بات دفتر خارجہ کے بااختیار افسر سے ہوگئی ہے جس کی تصدیق تین گھنٹے بعد دبئی سے آنے والی فون کال نے کردی۔جو کام ہمارے مرشد۔ہمارے موروثی مالک نے دس دن کی عطا کردہ ذلالت کے بعد بھی نہ کیا وہ ہمارے قلم قبیلے کے دوست نے اپنے ذاتی تعلق کی بنا پر کردیا۔میرے دوست کے بھائی دبئی سے پاکستان آچُکے ہیں مگر ہم بھی اب اپنے قبیلے میں واپس آچُکے ہیں۔بے فیض کھجور کے طویل قامت درخت اور برگد کے سائے اب ہمیں زہر لگنے لگے ہیں۔
ہم اپنے اجداد کے سامنے معافی کے طلبگار ہیں کہ ہم ان کی طرح یک طرفہ تعلق اور بے کار ریاضت نہیں کر سکتے۔ ہم شرمندہ ہیں کہ آپ کے مرشد نے مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔وعدے اور دلاسے ہمارا مقدر ہیں تو پھر نئے عزم سے بنیاد سفر رکھتے ہیں۔ بقول اقبال “مانگی ہوئی جنت سے دوزخ کا عذاب اچھا”
شعوری سطح کا توازن بھی اب کافی مختلف ہوچکا ہے کہ مرشد نے تو عوام سے نفرت کے سوا کچھ نہیں سیکھا اور نہ سکھایا مگر ہم ان زمینوں میں تم سے کم تر ہیں کیونکہ ہمارے بزرگوں کو انگریزوں کی دلالی نہیں آتی تھی ورنہ تھوڑی سی بے غیرتی سے وہ ہماری نسلوں کا مستقبل سنوار سکتے تھے۔ آپ کو سرد مہری اور مردم بے زاری مبارک ہو۔
بدھ, ستمبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم

