اسلام آباد: ( گردوپیش رپورٹ ) نوجوان شاعر نقاد، محقق ، مترجم ، ڈرامہ نگار ، اینکر پرسن اور اکادمی ادبیات پاکستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر علی یاسر دماغ کی شریان پھٹنے سے انتقال کر گئے ۔ ان کی عمر 44 برس تھی۔اتوار کی شب انہیں بلڈ پریشر کے باعث راول ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے ۔علی یاسر کے انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گئی ۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ان کے دوست اور بڑی تعداد میں ادیب شاعر رات گئے ہسپتال پہنچ گئےجو ان کی بے وقت موت پر غم سے نڈھال تھے ۔
علی یاسر 13 دسمبر 1976 کو پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں پیدا ہوۓ-ان کے والد کا نام حبیب حیدر ہے- علی یاسر کی عمر کے ابتدائی سولہ سال گوجرانوالہ میں ہی گزرے اور وہ 1994 میں اسلام آباد آ گئے- علی یاسر نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے اردو کیا اور پھر علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد سے اردو میں ایم فِل کرنے کے بعد اسی مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اپریل 2006 سے اکادمی ادبیات پاکستان سے منسلک تھے ۔
علی یاسر نے 1990 میں شاعری کا آغاز کیا اور ابتدا میں اپنے دادا امیر علی ساتھی سے اصلاح لی- ان کی تعلیمی سرگرمیاں بھی اردو کے حوالوں سے جاری رہیں اور یوں ان کا ادبی ذوق اور مہارت بڑھتی رہی- انہوں نے ادبی حلقوں میں اپنی مضبوط پہچان اور جدا رنگ قائم کیا-
”ارادہ“ کے نام سے علی یاسر کی غزلوں کا مجموعہ 2007 میں منظر عام پر آیا جبکہ 2016 میں ان کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ “غزل بتائے گی” کے عنوان سے شائع ہوا- علی یاسر نے 2008 اور 2010 میں اہلِ قلم ڈائریکٹر ی کو مرتب کیا- ”کلیاتِ منظور عارف“ اور ”اردو غزل میں تصورِ فنا و بقا “ کے عنوانات سے بھی ان کتابیں منظر عام پر آئیں –
علی یاسر نے ادب کی سرپرستی کے لئے قائم حکومتی ادارے اکادمی ادبیات میں ملازمت اختیار کی تو وہ نہ صرف ملک بھر کے ادبی حلقوں سے وابستہ ہو گئے بلکہ شعر و ادب کی خدمت کا بیڑا بھی اٹھایا- وہ اکادمی ادبیات میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر مامور تھے ۔
شاعری میں اپنی پہچان رکھنے والے علی یاسر میڈیا سے بھی وابستہ تھے اور ریڈیو اور ٹی وی کے پروگرامات میں شریک بھی ہوتے تھے اور ان کی میزبانی بھی کرتے تھے ۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور علامہ اقبال یونیورسٹی ایف ایم ریڈیو پر باقاعدہ پروگراموں کے میزبان تھے ، انہوں نے پی ٹی وی کے لئے بہت سی دستاویزی فلمیں، سکرپٹس اور نغمے لکھے۔ بطور مترجم انہوں نے انگریزی اور پنجابی سے اردو میں تراجم کئے جن میں “چین کی محبت کی نظمیں” اور “نوبل لیکچر” وغیرہ شامل ہیں- علی یاسر علامہ اقبال یونیورسٹی سے جُز وقتی استاد کے طور پر منسلک تھے –
اتوار, اکتوبر 25, 2026
تازہ خبریں:
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ

