1966 تھا شاید، بہار کے خوشگوار دن تھے ، لاہور پھولوں سے مہک رہا تھا دل بے فکر اور زہن آزاد تھا
ً مجھے دماغ ًبھی تھاً خندہ ہاۓ زیبا کا ً
جب صبح سویرے ، پاپا امی،بھائی جان اور میں، لاہور میوزیم پہنچے، پتہ چلا تھا صادقین صاحب آسمانی عبارتیں میوزیم کے درو دیوار پہ سجانے میں مصروفِ کار ہیں۔ پاپا نے ایک کارندے کو جَھٹ سے ایک پرزے پہ کچھ لکھ کے دیا اور کہا یہ صادقین صاحب کی خدمت میں پیش کر دو۔ میں نویں جماعت میں تھی، دو مصرعے جو میں نے اُوپر کو ہو کر پڑھے شاید وہ کچھ یوں تھے:
کہنے کو ہے صادقین سّید زادہ
کرتا نہیں کوئی کام بغیرِ بادہ
چند لمحے بھی نہ گزرے ہونگے کہ نظروں نے اپنے سامنے صادقین صاحب کو آتے دیکھا، سفید عرض کا پاجامہ، سیاہ شیروانی، اوپر کے تین چار بٹن کُھلے ہوئے، نیچے سے سفید کرتے کا گریبان جھانکتا ہوا ، سیاہ گھونگریالے بال، کالی لَٹیں پیشانی کو چھوتی ہوئی ،داہنے ہاتھ میں برش، بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں سگریٹ، سیاہ فریم کی عینک سے جھانکتی بڑی بڑی روشن آنکھیں، آغوش وا کئے اے اور پاپا سے بغلگیر ہوگئے اور پھر خود کو الگ کر کے مسکراتے ہوئے بولے کہنے کو نہیں:
ہے واقعی صادقین سّید زادہ
بدھ, اکتوبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟

