کسی سلطنت میں بدانتظام کے چلتے عوام بہت ناراض تھی۔ جگہ جگہ تنظیمیں بغاوت کررہی تھی۔ ہمیشہ نیوٹرل رہنے والی ”دانشورجماعت“ بھی کھل کر سامنے آگئی تھی۔ پریشان ہوکر سلطان نے اپنے سیاسی صلاح کار سے صلاح لینی چاہی۔ صلاح کاربڑاہی تہذیب کار تھا۔اس کی صلاح پر سلطان نے اپنے خاص جاسوسوں کو حکم دیا کہ سلطنت کے سبھی ہندومندروں میں بڑے کاگوشت گرودواروں اور مسجدوں میں سورکاگوشت پھینک دیاجاے اور دوچار عیسائی پادریوں کا قتل اور ننوں کا ریپ کردیاجائے۔ اس کے علاوہ دانشورجماعت کے بیچ بحث کے لیے کوئی مدع اچھال دیاجائے۔
سلطان کے حکم کی ہوبہوتعمیل ہوئی۔ دانشورجماعت بحثوں میں الجھارہا۔ رعایا آپس میں ہی لڑنے مرنے لگی اور تواریخ میں اس سلطان کانام ایک عقل مند سلطان کے نام سے درج ہوگیا۔
پیر, ستمبر 7, 2026
تازہ خبریں:
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نئے صوبے ۔۔بسم اللہ اسلام آباد سے کریں : سہیل وڑائچ کا کالم
- زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات
- نثار کھوڑو کی تحریکِ التوا یا تحریکِ پیش بندی؟ : نصرت جاوید کا کالم
- بلوچستان: ضلع کچھی میں مسلح افراد کا پولیس تھانے اور سرکاری دفاتر پر حملہ
- صوبوں کی تقسیم اور ملک کا ’مفرور صدر‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- دوسری دنیا کا قیام ممکن ہے : کمیونسٹ انٹرنیشنل کے یومِ تاسیس پر فہیم عامر کا خصوصی مضمون
- پیٹرول تین اور ڈیزل ڈھائی روپے لیٹر مہنگا کر دیا گیا

