راو لپنڈی :جمعیت علما اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے۔انہیں ان کے گھر میں گھس کر چاقوؤں کے وار کر کے قتل کیا گیا ۔ جمعیت علما اسلام (س) پشاور کے صدر مولانا حصیم نے ان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے۔اس سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ انہیں روالپنڈی میں موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے قتل کیا ۔دوسری جانب مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق کا جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مولانا صاحب اپنے گھر پر موجود تھے اور آرام کر رہے تھے۔مولانا حامد الحق نے بتایا کہ ان کے ڈرائیور اور محافظ کچھ دیر کے لیے باہر گئے اور جب واپس آئے تو مولانا سمیع الحق اپنے بستر پر خون میں لپ پت پڑے تھے۔مولانا سمیع الحق کے بیٹے نے بتایا کہ ان کے والد پر چھریوں سے وار کیے گئے۔مولانا سمیع الحق دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم تھے اور پاکستان و افغانستان سمیت مختلف ممالک کے علمائے کرام اس مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے ہی فارغ التحصیل ہیں۔
جمعرات, نومبر 5, 2026
تازہ خبریں:
- الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
- وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
- امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
- امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھگدڑ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور
- پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک
- ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ

