کابل میں ایک فضائی حملے میں100 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں کابل میں فارینزک لیبارٹری کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر ہونے والے ایک فضائی حملہ ہوا ہے ۔
طالبان حکومت کے ترجمان کے مطابق اس مرکز کو پیر کی شام ایک فضائی حملے میں پاکستان کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم پاکستان نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پیر کی شام کیے گئے فضائی حملے میں کابل اور مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
طالبان حکام کے مطابق اس مرکز میں تقریباً دو ہزار افراد زیرِ علاج تھے۔ افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر متقی کا کہنا ہے کہ اس مرکز پر ہونے والے حملے میں 408 افراد ہلاک اور 265 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتا۔
کابل کے محکمہ فارینزک میڈیسن کے ذرائع کے مطابق اس مرکز سے لائی گئی بعض لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔
رہائشیوں نے مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بج کر 50 منٹ پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی جس کے بعد طیاروں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔
افغان طالبان کا موقف
افغان وزارتِ صحت کے ترجمان شرافت زمان امرخیل نے بی بی سی کو بتایا کہ مرکز کے قریب کسی قسم کی عسکری تنصیبات نہیں ہیں۔
کابل میں کچھ ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے بعد طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر متقی نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب افغانستان چین کی ثالثی میں مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کر رہا تھا۔
افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انھوں نے چین کی کوششیں سراہتے ہوئے کہا کہ ’مذاکرات تبھی ممکن ہیں جب دوسرا فریق دشمنانہ اقدامات ترک کرے اور عملی اقدامات کے ذریعے حل کے لیے حقیقی عزم دکھائے۔‘
طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ نے اس پیغام میں جوابی کارروائیوں کی بھی دھمکی دی ہے۔
ادھر افغان طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کے ساتھ تصویر شیئر کی اور لکھا کہ ’یہ وہ عام شہری اور منشیات کے عادی افراد تھے جن کی اکثریت پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہوئی۔‘
خیال رہے کہ راشد خان سمیت افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے چند کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر اس حملے کی مذمت کی ہے۔
پاکستان کا کیا مؤقف ہے؟
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے کابل اور ننگرہار میں ’عسکری تنصیبات اور دہشت گردی کے ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا جو افغانستان میں طالبان حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔‘
ایکس پر پوسٹ میں ان کا کہنا تھا: ’کابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت کرنے والے انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز کو تباہ کیا گیا۔ حملوں کے بعد ہونے والے دھماکے بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ وہاں گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔‘
عطا اللہ تارڑ نے مزید لکھا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج نے ننگرہار میں بھی افغان طالبان حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گردی کے چار مراکز کو نشانہ بنایا اور وہاں موجود اسلحہ اور تکنیکی انفراسٹرکچر تباہ کیا۔‘
پاکستانی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ ’تمام اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ صرف اُن تنصیبات تک محدود رکھا گیا جنھیں افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کی مدد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔‘
پاکستان کے عسکری ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ویڈیو میں فضائی حملے کے بعد ایک دوسرے دھماکے کی وجہ سے اٹھنے والے شعلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک اسلحہ ڈپو تھا۔‘
بی بی سی ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتا۔
جمعہ, اکتوبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے

