وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہزارہ ایکسپریس کو پیش آنے والا حادثہ کوئی تخریب کاری بھی ہو سکتی ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا ہزارہ ایکسپریس حادثے میں 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
سعد رفیق کا کہنا تھا ٹرین کی رفتار مناسب تھی اور ٹرین جب حادثے کا شکار ہوئی تو 45 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی لیکن پہلے ریلیف اور پھر تحقیقات ہوں گی، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ سے بات ہوئی ہے وہ خود موقع پر پہنچ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دو تین دن رہ گئے ہیں، ڈر تھا کہ کوئی حادثہ نہ ہو جائے اور ایسا ہی ہوا، یہ تخریب کاری بھی ہوسکتی ہے اور لائن میں مکینیکل فالٹ بھی ہو سکتا ہے، تخریب کاری تھی یا فنی خرابی اس کا فیصلہ ایف جی آئی آر کرے گی۔
یاد رہے کہ کراچی سے حویلیاں جانے والی ہزارہ ایکسپریس کو نوابشاہ میں سرہاری ریلوے اسٹیشن کے قریب حادثہ پیش آیا جس میں کم از کم 15 افراد کے جاں بحق اور 40 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
(بشکریہ: جیو نیوز)
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

