پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کا قافلہ اسلام آبادمیں داخل ہو گیا۔عمران خان کا قافلہ پشاور سےاسلام آباد داخلے کے ٹول پلازہ سے آگے بڑھ گیا۔اس سے قبل حسن ابدال میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک میں میرا انتظار کرو میں آ رہا ہوں، پولیس نے پرُامن احتجاج پر شیلنگ کی ہے۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ عوام کا سمندر ڈی چوک آ رہا ہے ، حکومت جب تک الیکشن کی تاریخ نہیں دےگی وہاں سے نہیں جائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کا قافلہ اسلام آبادمیں داخل ہو گیا۔اسلام آباد میں ڈی چوک پر پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس اہلکار آمنے سامنے آگئے، جس کے باعث ڈی چوک میدان جنگ بن گیا۔پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کو منتشر کرنے کیلئے شیلنگ کی۔ رپورٹس کے مطابق شیلنگ کے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے ڈی چوک پر گرفتاریاں شروع کردی ہیں، چند کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر فوج کو طلب کرلیا ہے۔حکومت کی جانب سے جاری کردی نوٹی فیکشن کے مطابق فوج آئین کے آرٹیکل 245 طلب کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق فوج ریڈ زون میں موجود سرکاری عمارتوں کے تحفظ کیلئے طلب کی گئی ہے۔
بدھ, اکتوبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟
- اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا
- ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

