بلوچوں کے مزاحمتی مزاج کو سمجھنے کی یہ ایک زبردست مثال ہے کہ انہوں نے باہر سے آیا مذہب تو قبول کر لیا مگر اس میں بھی ایک اختراع ڈھونڈ نکالی۔ ایک خدا، ایک رسول، ایک قرآن پر تو ایمان لے آئے مگر عبادت کا طریقہ اپنا الگ مقرر کیا اور یوں “ذکری“کمیونٹی کی بنیاد رکھی گئی۔
رمضان کے آخری عشرے سے شروع ہو کر ستائیس رمضان کو تربت کیچ کے کوہ مراد پر اختتام پذیر ہونے والی یہ عبادت بلوچ کلچرل ڈائیورسٹی اور مذہبی رواداری کا زبردست نمونہ ہے۔ مرد و خواتین مل کر دو چاپی کی طرز پر ”چوگان“ کرتے ہیں اور خدا کی حمد و ثنا بلوچی زبان میں ادا کرتے ہیں۔ یہ عبادت ہر لحاظ سے کلچرل اور سیکولر ہوتی ہے۔
ذکری کیچ، مکران کی اکثریتی کمیونٹی رہی ہے، اب مکران میں ان کی اکثریت متاثر ہوئی ہے مگر اس کے باوجود نوری نصیر خان کے عہد کے سوا، بلوچ تاریخ میں کبھی مذہبی عدم رواداری کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔
میں پندرہ سال پہلے تربت گیا تو کوہِ مراد کی زیارت کی تھی مگر ایک بار ستائیس رمضان والی چوگان میں جانے کی خواہش ہے۔ کہتے ہیں چوگان، بلوچوں کا حج اکبر ہے۔
جمعہ, اکتوبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے

