اسلام آباد:وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے یونان کشتی حادثہ کی تحقیقاتی کمیٹی کو کارروائی مکمل کرکے واقعہ کی جلد رپورٹ پیش کرنے اور ذمہ داران کو جلد کیفر کردار تک پہنچانے کا حکم دیا ہے جب کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مزید 2 مبینہ انسانی اسمگلر وں کو گرفتار کر لیا۔
گزشتہ ہفتے یونان کے قریب بحیرہ روم میں تقریباً 400 پاکستانیوں سمیت 800 تارکین وطن پر مشتمل کشتی ڈوب گئی تھی جن میں سے محض 104 افراد کو زندہ ریسکیو کرلیا گیا، سیکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں اور مزید لوگوں کو زندہ حالت میں ڈھونڈ نکالنے کے امکانات تقریباً صفر ہیں۔
گزشتہ روز سمندر سے مزید 3 لاشیں نکالے جانے کے بعد سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی مصدقہ تعداد 81 تک پہنچ گئی تھی۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعظم کی زیرِ صدارت یونان کے قریب کشتی الٹنے کے واقعہ پر آج اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں وفاقی وزرا رانا ثنا اللہ، مریم اورنگزیب، معاون خصوصی طارق فاطمی، ڈی جی ایف آئی اے، چیف سیکریٹری آزاد کشمیر و متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔
وزیر اعظم کو یونان کے قریب بحیرہ روم میں کشتی الٹنے کے واقعہ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیرِ اعظم نے استفسار کیا کہ انسانی اسمگلروں کی کارروائیاں بروقت کیوں نہ روکی گئیں؟ وزیرِ اعظم نے اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا کہ متاثرہ لوگوں کا جن اضلاع سے تعلق ہے وہاں کی انتظامیہ نے ملوث اسمگلروں اور ایجنٹوں کی کارروائیوں کا بروقت نوٹس کیونکر نہ لیا؟۔
وزیرِ اعظم نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو تحقیقات کی مکمل نگرانی کرنے اور ذمہ داران کو سزا دلوانے کے حوالے سے ضروری قانون سازی کے لیے تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزیرِ اعظم کو کشتی الٹنے کے واقعہ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ یونانی کوسٹ گارڈ نے 12 جون کو کشتی کی نشاندہی کی جس میں ایک اندازے کے مطابق 700 کے قریب لوگ سوار تھے.
بریفنگ دی گئی کہ کشتی مصری شخص کی ملکیت تھی جس میں زیادہ تر سواروں کا تعلق شام، لیبیا اور پاکستان سے تھا،کشتی میں سوار لوگوں میں سے 102 لوگوں کو زندہ ریسکیو کیا جا چکا ہے جن میں سے 15 کا تعلق پاکستان سے ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کشتی الٹنے کے بعد اس وقت تک مجموعی طور پر 15 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں اس واقعہ کا مرکزی ملزم بھی شامل ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ انسانی اسمگلنگ میں مختلف ممالک میں موجود ایک منظم نیٹ ورک ملوث ہے۔
وزیرِ اعظم نے اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کو جلد مکمل کرنے اور ایف آئی اے کو اس کی روک تھام کے موثر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔
وزیرِ اعظم نے کمشنر گوجرانوالہ کو بھی ضلع میں ایسے ایجنٹس کی نشاندہی کرکے انہیں جلد قانون کی گرفت میں لانے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفیکنگ سرکل گجرانوالہ نے کارروائی کرتے ہوئے حادثہ میں ملوث 2 مبینہ انسانی اسمگلروں کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفیکنگ سرکل گجرانوالہ نے کارروائی کرتے ہوئے حادثہ میں ملوث 2 مبینہ انسانی اسمگلروں کو گرفتار کر لیا گیا—فوٹو:وسیم ریاض
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے لیبیا کشتی حادثے کے متاثرہ کو یورپ بھجوانے کے لئے 25 لاکھ روپے ہتھیائے، متاثرہ عمیر یحیٰ لیبیا سے اٹلی جاتے ہوئے کشتی حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔
گرفتار انسانی اسمگلرز میں محسن جاوید اور شرافت علی شامل ہیں جن کا تعلق گجرانوالہ سے ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملزمان کو گجرانوالہ سے گرفتار کیا گیا، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، مزید تفتیش جاری ہے۔
98 لاپتا نوجوانوں کے خاندانوں کے ڈی این اے سیمپلز حاصل کر لیے گئے
ادھر ایف آئی اے نے یونان میں تارکین وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے کے متاثرین کی شناخت کے لیے ڈوبنے والی کشتی پر سوار افراد کے اہل خانہ 98 لاپتا نوجوانوں کے خاندانوں کے ڈی این اے سیمپلز حاصل کر لیے۔
حکام نے متاثرین کے والدین اور بچوں سے ڈی این اے کے نمونے دینے کی درخواست کی تھی تاکہ سمندر سے برآمد ہونے والی لاشوں کی شناخت کی جاسکے، اب تک 81 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 104 کو بچا لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے گجرات سرکل میں 52 متاثرین کے لواحقین کی جانب سے سیمپل جمع کروائے گئے جب کہ گجرانوالہ سرکل میں 46 متاثرہ خاندانوں کی جانب سے ڈی این اے سیمپلز دئیے گئے۔
گزشتہ روز متوفیوں کے قریبی رشتہ دار گجرات میں ایف آئی اے کے دفتر پہنچے، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیم نے ان کے نمونے اکٹھے کر لیے، ان کی رپورٹس یونان میں پاکستانی سفارتخانے کو بھیجی جائیں گی۔
یونان نے سانحے میں ملوث 9 افراد پر فرد جرم عائد کردی
دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے رپورٹ کیا کہ یونانی کوسٹ گارڈ نے کشتی ڈوبنے کے واقعہ میں ملوث 9 افراد پر فرد جرم عائد کی اور کم از کم 82 افراد کو حراست میں لیا جب کہ یورپی یونین نے تارکین وطن کے حوالے سے مختص اپنے فنڈز میں مزید اضافہ کرنے اور اقدامات کا عزم کیا۔
مشتبہ تمام اسمگلر کا تعلق مصر سے ہیں اور ان کی عمریں 20 سے 40 سال کے درمیان ہیں، ملزمان کو منگل کے روز پراسیکیوٹر کے سامنے پیش کیا گیا جہاں ان پر قتل عام، مجرمانہ تنظیم بنانے، تارکین وطن کی اسمگلنگ اور کشتی ڈوبنے کے واقعہ میں ملوث ہونے کے الزامات شامل تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے ای آر ٹی کے مطابق تمام ملزمان نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کسی بھی غلط کام میں ملوث ہونےف سے انکار کیا۔
بحیرہ روم میں ڈوبنے والی کشتی مصر سے روانہ ہوئی، پھر 10 جون کو لیبیا کے ساحلی شہر توبروک میں مسافروں کو اٹھا کر اٹلی کے لیے روانہ ہوئی، یونانی حکام نے بتایا کہ زندہ بچ جانے والوں نے دوران تفتیش انہیں بتایا کہ انہوں نے سفر کے لیے فی کس 45 ہزار ڈالر ادا کیے۔
یونان کو 12 جون کو اپنی حدود میں کشتی کی موجودگی پر اٹلی کی جانب سے الرٹ جاری کیا گیا تھا، کشتی کے ڈوبنے کے وقت سمندر میں حالات تھے اور اس کے ڈوبنے کی اصل وجوہات تاحال واضح نہیں ہیں۔
برسلز میں یورپی یونین نے تارکین وطن کے حوالے سے پالیسیوں کو بہتر کرنے کے لیے اپنے 2024-2027 کے بجٹ میں 15 ارب یورو مختص کرنے کا فیصلہ کیا۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)
یونان کشتی سانحہ: وزیر اعظم کی ملزمان کو سزا دلوانے کیلئےتجاویز مرتب کرنے کی ہدایت
ایڈیٹر2 Views

