Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
  • خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
  • جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
  • مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
  • سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
  • پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
  • لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
  • محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
  • جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » 25 جولائی کا اڑتا تیر : بات سے بات / وسعت اللہ خان
بی بی سی

25 جولائی کا اڑتا تیر : بات سے بات / وسعت اللہ خان

ایڈیٹرجولائی 23, 20181 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
wusat ullah khan columns about pakistan politicsat girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

پاکستان تحریک ِانصاف کے اکرام اللہ گنڈہ پور، بلوچستان عوامی پارٹی کے سراج رئیسانی اور عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی امیدوار ہارون بلور سمیت پچھلے دو ہفتے میں کم ازکم 178 افراد انتخابی مہم کو درپیش دہشت گردی کا لقمہ بن چکے ہیں۔ چاروں صوبوں میں کئی امیدواروں یا ان کے قافلوں پر فائرنگ کی وارداتیں الگ ہیں۔کچھ امیدواروں کو حریف جماعتوں کی جانب سے سنگین خطرات کا بھی سامنا ہے۔ جیسے کراچی میں قومی اسمبلی کے ایک آزاد امیدوار جبران ناصر اور ان کے حامی مذہبی جماعتوں کے حمایتیوں کی طرف سے پتھراؤ، اشتعال انگیزی، گھیراؤ اور فتووں کی زد میں ہیں اور صورتِ حال اس نہج پر ہے کہ کسی بھی وقت کوئی بری خبر آ سکتی ہے۔شدت پسندی کے مرتکب افراد پر نگاہ رکھنے والی شیڈول فور کی فہرست پر نظرِ ثانی کے سبب کالعدم شدت پسند تنظیموں کی قیادت و کارکنان مختلف پلیٹ فارمز استعمال کرکے انتخابی مہم میں نہ صرف حصہ لے رہے ہیں بلکہ خود کو ملک گیر وفاق پرست کہلانے والی جماعتوں کے امیدوار بھی جہاں جہاں ضرورت پڑ رہی ہے ان شدت پسند اور کالعدم تنظیموں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر رہے ہیں، ان کی حمایت کے سرٹیفکیٹ لے رہے اور ضرورت پڑے تو خود بھی مذہبی اشتعال پھیلانے والے ٹکڑے اپنی تقاریر میں استعمال کر رہے ہیں۔بس اس لیے کہ ووٹ چاہیے۔ بھلے وہ بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے وعدے پر ملے یا مذہبی اقلیتوں پر تیر برسا کر اکثریت کی ہمدردیاں سمیٹنے کی شکل میں دستیاب ہو یا ابلیس سے ہاتھ ملا کر مل جائے۔ بس ووٹ مل جائے۔
جہاں تک اسٹیبلشمنٹ کا معاملہ ہے تو حسبِ منشا مثبت نتائج اور ایک غیر مستحکم ربڑ سٹیمپ پارلیمینٹ کا ہدف حاصل کرنے کے لیے تمام مطلوبہ وسائل، حربے اور گھوڑے استعمال کرنے کا تاثر اب ملکی حدود سے اوپر بین الاقوامی سطح تک پھیل گیا ہے۔ اس کے پیچھے سوچ یہی ہے کہ ملک کا طویل المیعاد سیاسی، علاقائی، بین الاقوامی اور اقتصادی مفاد تو کل بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلے 25 جولائی تو سیدھا کر لیں۔کل ملا کے اب تک اتنا گند اچھل چکا ہے کہ اگر 25 جولائی کو انتخابات سو فیصد صاف و شفاف بھی ہو جائیں تب بھی نتائج کے ماتھے پر سوالیہ نشان کا سٹیکر چپکا رہے گا۔مگر اس سے بھی خطرناک یہ پہلو ہے کہ عدلیہ کے فیصلوں پر بھی پہلے سے تحفظات زیادہ ہیں اور خود جج الزامات لگانے پر اتر آئے ہیں۔ مثلاً اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی بھلے اپنی بعض آبزرویشنز، فیصلوں یا پیشہ ورانہ کنڈکٹ کے تعلق سے کتنے ہی متنازع ہوں لیکن ایک اعلیٰ عدالت کے حاضر سروس جج کے طور پر کہ جو سینیارٹی کے اعتبار سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا اگلا چیف جسٹس بننے کا اہل ہے، ان کی باتوں کو غیر سنجیدگی سے نہیں لیا جا سکتا۔اگر جسٹس صدیقی کی جانب سے کسی کو عمر قید یا سزائے موت دینے کے فیصلے کو قبول کیا جا سکتا ہے تو پھر ان کے اس الزام پر بھی کان دھرنے کی ضرورت ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اس وقت انٹیلی جینس ایجنسیوں کے نرغے میں ہے۔یہ اتنا سنگین الزام ہے جس کی تحقیقات کے لئے فوراً ایک آزاد و خود مختار عدالتی کمیشن کے قیام اور سفارشات پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ جتنی دیر ہوتی جائے گی اتنے ہی سائے گہرے ہوتے جائیں گے۔ اس مجوزہ کمیشن کا دائرہ کار محض یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک حاضر سروس جج نے ضابطہِ کار یا ضابطہِ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے لہذا اس کے خلاف تادیبی کاروائی ہونی چاہیے کہ نہیں۔ بلکہ کمیشن کے مینڈیٹ میں یہ بھی شامل ہونا چاہئیے کہ مذکورہ جج نے جو الزامات لگائے ہیں ان کی تہہ تک پہنچا جائے۔ اگر الزامات بے بنیاد ثابت ہوں تو جج کو کٹہرے میں لایا جائے بصورتِ دیگر عدلیہ کی حرمت، دائرہ کار اور کردار سے کھلواڑ کرنے والوں پر بلا امتیاز فردِ جرم عائد کی جائے۔دودھ اور پانی فوری طور پر اس لیے الگ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عدلیہ سے اعتماد اٹھنے کا مطلب انصاف سے اعتماد اٹھنا اور انصاف سے اعتماد اٹھنے کا مطلب ریاست پر سے اعتماد اٹھنا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleملتان مرا رومان : یادیں ( 15 ) ۔۔ رضی الدین رضی
Next Article کینگرو کورٹ: قلم کمان / حامد میر
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

اکتوبر 23, 2026

خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

اکتوبر 23, 2026

جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار

اکتوبر 23, 2026
Leave A Reply

حالیہ پوسٹس
  • فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم اکتوبر 23, 2026
  • خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم اکتوبر 23, 2026
  • جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار اکتوبر 23, 2026
  • مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم اکتوبر 23, 2026
  • سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی اکتوبر 22, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.