انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) میں راجستھان رائلز کے خلاف میچ میں سست ترین سنچری اسکور کرنے پر رائل چیلنجرز بنگلور کے بیٹر ویرات کوہلی تنقید کی زد میں آگئے۔
ہفتے کو آئی پی ایل میچ میں راجستھان رائلز نے ٹاس جیت کر بنگلور کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔
بنگلور نے مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں پر 183 رنز بنائے، ویرات کوہلی نے67 گیندوں پر سنچری اسکور کی اور مجموعی طور پر 72 گیندوں پر 113 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی۔
ویرات کوہلی کی یہ سنچری آئی پی ایل کی تاریخ کی مشترکہ طور پر سب سے سست ترین سنچری ہے۔
اس سےقبل 2009 میں منیش پانڈے نے 67 گیندوں پر سنچری اسکور کرکے آئی پی ایل کی سست ترین سنچری کا ناپسندیدہ اعزاز حاصل کیا تھا۔
راجستھان کی ٹیم نے 184 رنز کا ہدف جوش بٹلر کی شاندار سنچری کی بدولت باآسانی حاصل کرلیا۔ بٹلر نے 58 گیندوں پر 100 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔
ویرات کوہلی جنہیں آئی پی ایل سے قبل ہی ان کے اسٹرائیک ریٹ کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ کہا جارہا تھا کہ ان کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں جگہ نہیں بنتی وہیں راجستھان کے خلاف میچ میں سست ترین سنچری بنانے پر کوہلی ایک بار پھر تنقید کی زد میں آگئے۔
سوشل میڈیا پر بھی کرکٹ شائقین کی جانب سے ان کو ٹرولنگ کا نشانہ بنایا گیا تو وہیں پاکستانی کرکٹر جنید خان نے بھی ان کو ٹرول کرتے ہوئے ایکس پر ٹوئٹ کی۔
جنید خان نے لکھا کہ ‘ آئی پی ایل کی سست ترین سنچری اسکور کرنے پر ویرات کوہلی آپ کو مبارک ہو’۔
اس کے علاوہ بھارت کے سابق کرکٹر وریندر سہواگ نے بھی کوہلی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کوہلی نے سنچری اسکور کی اچھی بات ہے لیکن ان کا اسٹرائیک ریٹ اور بہتر ہونا چاہیے تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سہواگ نے کہا کہ آپ جب 39 گیندوں پر ففٹی مکمل کرلیتے ہیں تو پھر آپ کو زیادہ تیزی سے رنز بنانے چاہئیں۔
علاوہ ازیں راجستھان رائلز کی ٹیم کی جانب سے بھی بنگلور کو ٹرول کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا گیا کہ جس پچ پر 200 رنز بن سکتے تھے وہاں 183 رنز بننا کافی اچھا ہے۔
(بشکریہ:جیونیوز)
پیر, اکتوبر 26, 2026
تازہ خبریں:
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم

