Browsing: سید مجاہد علی

یہ ملکی عدالتی نظام کا نقص ہے کہ غلط اور بلاجواز طورسے گرفتار کیے گئے لوگوں کو بھی اپنا مؤقف درست ثابت ہونے کے باوجود عدالتیں مقدمہ خارج نہیں کرتیں بلکہ ملزم ہی کو مالی بوجھ برداشت کرتے ہوئے وکیل کی فیس کے علاوہ زر ضمانت کا بھی اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس معاملہ میں عدالت نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کے ایک غلط فیصلے کو مسترد کیا۔ اس کے باوجود مقدمہ جاری ہے اور متعلقہ صحافی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے پیشیاں بھگتنا ہوں گی۔

تہران میں جاری اقتدار و اختیار کی رسہ کشی کی صورت حال میں یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ایران کب تک امریکہ کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت سے معاملہ طے کرے گا البتہ صدر ٹرمپ کے بیانات سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ بات چیت سے معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں۔ شاید اسی لیے اب انہوں نے جمعہ تک مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم وہ چاہتے ہیں کہ جلد ہی کوئی ڈیل ہوجائے تاکہ وہ اس تنازعہ سے نکل کر امریکہ کے مڈٹرم انتخابات پر توجہ مبذول کرسکیں۔

عمر فاوق ظہور ناروے میں ایک جانی پہچانی پاکستانی کاروباری شخصیت کے ہاں پیدا ہؤا تھا۔ اس نے 18 سال کی عمر میں ایک ٹریول ایجنسی کھول کر اوسلو میں ہی کاروباری زندگی کا آغاز کیا۔ تاہم سفری دستاویزات کے فراڈ میں اسے اوسلو کی ایک عدلت نے ایک سال قید کی سزا دی۔ لیکن وہ کبھی عدالت میں پیش نہیں ہؤا۔ 2010 میں اس نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی سے ایک مقامی بنک نورڈیا سے 60 ملین کرونر حاصل کیے۔ وہ خود اس الزام سے انکار کرتا ہے۔ لیکن کبھی ناروے آکر اپنے خلاف الزامات کا دفاع بھی نہیں کرسکا۔

ٹرمپ دنیا میں امن قائم کرانے، اور تنازعات ختم کرانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے ان کا کہنا ہے کہ تاریخ میں نوبل امن انعام کا ان سے بڑا حقدار پیدا نہیں ہوا۔ لیکن بدقسمتی سے بسیار گوئی اور انا کے اسیر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے رویہ کی وجہ سے دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

ایکس پر خواجہ آصف کے ڈیلیٹ کیے ہوئے بیان کا متن ہی واضح کرتا ہے کہ ان کا بیان کسی حد تک تاریخ اور سفارتی صورت حال کی غلط تفہیم و تعبیر پر استوار ہے۔ انہوں نے لکھا: ’ اسرائیل شیطان ہے اور انسانیت کے لیے لعنت ہے۔ اسلام آباد میں امن مذاکرات جاری ہیں، لبنان میں نسل کشی کی جا رہی ہے۔ بے گناہ شہریوں کو اسرائیل کے ہاتھوں قتل کیا جا رہا ہے۔ پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان، خونریزی بلا روک ٹوک جاری ہے۔ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے یورپی یہودیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے فلسطینی سرزمین پر یہ سرطان جیسی ریاست قائم کی، جہنم میں جلیں‘۔

پاکستانی جھنڈے کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے بارے میں بھی یہ غلط فہمی عام کی گئی ہے کہ یہ سب آئل ٹینکرز تھے اور سیدھے پاکستان آرہے تھے۔ حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ یہ ٹینکرز تیل کے علاوہ مختلف مصنوعات لے کر مختلف ممالک کی طرف جا رہے تھے۔ پاکستانی جھنڈے کے ساتھ گزرنے کی اجازت دے کر ایرانی حکومت نے جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کے ساتھ رضامندی کا مظاہرہ کیا تھا۔ حکومت کو اپنے عوام کو اس بارے میں حقیقی تصویر دکھانا چاہیے تھی۔
بدقسمتی .

یہاں یہ بحث غیر ضروری اور بے کار ہوگی کہ کیا یہ ٹوئٹ واقعی نسیم شاہ کے خیالات کا پرتو تھا یا یہ انہوں نے خود ہی لکھوایا تھا یا کسی نے اکاؤنٹ ہیک کرکے اسے مریم کی ’تضحیک‘ کے لیے استعمال کیا۔ کیوں کہ ٹوئٹ میں کیا جانے والا سوال بے حد معصومانہ تھا۔

مریکی شرائط پر طے ہونے والا کوئی معاہدہ موجودہ رجیم کا آخری اہم فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں جو کام امریکی جنگ سے پورا نہیں ہؤا، وہ ایرانی عوام کا غم و غصہ پورا کردے گا۔ اگر ایرانی لیڈر پابندیاں اٹھوانے اور معاشی بحالی کے لیے کسی مثبت معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ، پھر امریکہ اور دنیا کو ایک نئی جوہری طاقت کے ظہور پزیر ہونےکا منتظر رہنا چاہئے۔