کبھی گلی، محلہ، میدان اور سکول کا گراؤنڈ بچوں اور نوجوانوں کی آوازوں سے آباد رہتے تھے۔ کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، والی بال، کبڈی، دوڑ اور دیگر کھیل جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ ٹیم ورک، برداشت، نظم و ضبط اور شکست و فتح کو قبول کرنے کا حوصلہ بھی سکھاتے تھے۔ اب میدان کے مقابلے میں موبائل کی اسکرین زیادہ پرکشش ہو گئی ہے۔ نوجوان کے ہاتھ میں گیند کے بجائے موبائل اور گراؤنڈ کے بجائے اسکرین آ گئی ہے۔
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
