ملتان (گردوپیش نیوز ) سلسلہ ادریسیہ محمدیہ امینیہ کے روحانی پیشوا الشیخ الحافظ محمد امین بن عبدالرحمان کو جمعرات کی شام ان کے آستانہ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ وہ بدھ کے روز 104 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے ۔ ان کی نماز جنازہ گذشتہ رات آستانہ عالیہ میں ادا کی گئی البتہ نماز جنازہ کے شرکا کی تعداد دور دور سڑکوں تک پھیلی ہوئی تھی جس کے لئے ساونڈ اور جگہ جگہ بڑی سکرئین لگائی گئی تھیں نماز جنازہ میں ملک بھر سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے عقیدت مندوں اور مریدین نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ان کے جنازے کو ملتان کی تاریخ کا بڑا جنازہ قرار دیا جا رہا ہے ۔
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثیر تعداد ہونے کی وجہ سے جناح پارک سے مدنی پارک تک مین روڈ پر انتظامات کئے گئے تھے۔جس کی وجہ سے جناح پارک سے مدنی چوک تک ٹریفک کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔جبکہ نماز جنازہ میں شریک افراد کی سہولت کے لئے سڑک پر لائٹس اور ساؤ نڈ سسٹم کے انتظامات کئے گئے تھے ۔
ان کی تدفین عبادت گاہ الحافظ الشیخ محمد امین بن عبدالرحمن 381اے بلاک شاہ رکن عالم کالونی ملتان میں کی گئی۔ واضح رہے کہ الحاج شیخ محمد امین کا بدھ کی شب لا ہور میں انتقال ہو گیا تھا ۔ حافظ محمد امین کے پاکستان ، یورپ ،امریکہ، افریقہ‘، عرب ممالک اور خلیجی ریاستوں سمیت دنیا بھر میں کروڑوں مریدین ہیں ۔نماز جنازہ کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔ مریدین روتے رہے اور درود شریف کا ورد کرتے رہے
الحاج شیخ محمد امین کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی 26اگست بروز ہفتہ بعد نماز مغرب ہوگی جبکہ دعارات دس بجے کرائی جائے گی۔
نماز جنازہ کے موقع پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے رش کی وجہ سے جمعرات کو نماز عصر سے قبل آ خری دیدار کا سلسلہ بند کر دیا گیا تھا یہ سلسلہ گذشتہ روز سے جاری تھا۔
Previous Articleسید مجاہد علی کا تجزیہ : عمران خان کیس ۔۔ کیا سپریم کورٹ ماتحت عدلیہ پر اثر انداز ہو رہی ہے ؟
Next Article عطا ء الحق قاسمی کا کالم:بوجھل دل کے ساتھ ایک کالم

