وقت اتنا ظالم ہوتا ہے کہ ہر سانس پہ لگان لیتا ہے ۔واہ! اللہ میاں! آپ تو جب کسی سے بہت خوش و راضی ہوتے ہیں وہاں بیٹی کا جنم ہوتا ۔پھر ایسا کیوں کہ کبھی شوہر تو کبھی بیٹے کے قرض کا لگان چکتا کروں ۔۔جو مجھ پہ بنتا ہی نہیں ۔۔۔۔جن رشتو ں کا لگان بھرتے بھرتے سانسیں اکھڑ جاتی ہیں۔وہ تو دھوپ میں سایہ دینے سے کتراتے ہیں۔تپتے صحرامیں ریت خون چوستی ہے۔۔۔۔۔اور ہڈیاں انگڑائی لینے لگتی ہیں۔
تیز ہواؤ ں کے تپتے جھرونکے ہر پور کو جھلسا دیتے ہیں۔۔۔۔رامی نے دعا سے ہاتھ اٹھایا تو دامن آنسوؤ ں سے تر تھا ۔۔ایسی ہچکی بندھی کہ رات کے آخری پہر تک رہی۔یہ سوال ۔۔۔ اس کی آنکھوں کی پتلی کی سوجن اور لالی کو کبھی کم نہ ہونے دیتے ۔۔۔منگل کی دوپہر کالے رنگ کے اوباۓ میں ملبوس کوئی جیل میں داخل ہوا ۔۔۔۔۔وہ اس شوہر کے قتل میں عمر قید کی سزا بھگت رہی تھی جو اس کا جہاں تھا ۔۔۔۔صرف چند ٹکوں کی خاطر اس پہ ایسا بہتان لگا کہ یہ کا ل کوٹھری اس کا مستقبل بن گئی ۔۔۔۔۔جب احمد نے سب رامی کے نام کرنا چاہا تو اس کے چچا زادوں نے چال چلی اور احمد کو قتل کر ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اتنے سال بعد کسی اپنے کی آمد کا سن کر بے ساختہ خوشی اس کے چہرے پہ پھیل گئی ۔۔۔۔ منسہ تو تو کیوں آئی ہے ۔تجھے نہیں پتا یہاں درندے ہر وقت منہ سے رال ٹپکاتے ہیں ۔۔۔
جانتی ہو ں گیٹ سے لے کر یہاں پہنچنے تک سر سے پاٶ ں میرا تعاقب کیا گیا ۔۔۔۔انتظار گاہ میں تو حد ہی ہو گئی ۔۔جب شناختی کارڈ رجسٹر پہ اندراج کے لیے دیا تو ۔۔۔۔۔۔اک کے بعد دوسرے سپاہی نے عورتوں کے کارڈ کو ایسے دیکھا کہ ان کی آنکھ کی گولی کارڈ پہ لگی تصویر پہ ایلفی سے چپک گئی ۔۔۔۔۔
کچھ دیر کی خاموشی ۔۔۔۔۔۔۔
منسہ رامی کی چھوٹی بہن تھی جسے ماں کے بعد اس نے ماں بن کے پالا تھا ۔۔۔
آپا آدھے گھنٹے کی ملاقات اور اس کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔۔۔ منسہ میں جن کی ماں ہوں ۔۔۔اتنے سال ہو گئے انہوں نے پلٹ کے پوچھا تک نہیں ۔وہ باپ کی چھوڑی دولت پہ عیاشی کر رہے یہ بھول گئے کہ کوئی عورت تھی جس نے ان کو جنما تھا ۔۔۔
وہ زندگی کا سکھ لوٹ رہے تھے اور کال کوٹھڑی میں ممتا پل پل تڑپ رہی تھی۔۔۔۔۔وہ اس احساس کو قریب بھی نہیں بھٹکنے دیتے اور اس احساں کو روند چکے تھے۔۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے کی اس ملاقا ت میں بچو ں کی خبر لینا چاہتی یہ سننا چاہتی کہ وہ بھی اسے یاد کرتے ۔۔۔۔منسہ جھوٹے دلاسے دیتی کہ اس کی روح اور چھلنی نہ ہو ۔۔۔۔۔۔جیل میں صرف رامی نہیں بلکہ ایسی اور بھی جانے کتنی بیٹیاں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو جوانی سے بڑھاپے کو پہنچ گئی ۔۔۔۔۔۔بڑے سے بڑا گناہ کرنے پہ بھی دولت رکھنے والوں کو چھوڑ دیا جاتا ۔۔۔۔۔رامی کے ساتھ جیل میں جتنی بھی قیدی ہیں وہ کسی بڑے گھر کی دہلیز سے نہیں آئیںتبھی وہ آج تک حوالات کی چو کھٹ پہ پڑی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
زندگی جینے پہ سب کا حق ہے ۔۔۔۔پر یہ طاقت کہاں سے لائیں یہ بییٹاں کہ باہر کی کھلی فضا میں سانس لے سکیں ۔۔۔۔۔۔۔جب تک جیئیں گی ان کو دنیا سزا دیتی رہے گی ۔۔۔۔
اتوار, ستمبر 6, 2026
تازہ خبریں:
- نئے صوبے ۔۔بسم اللہ اسلام آباد سے کریں : سہیل وڑائچ کا کالم
- زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات
- نثار کھوڑو کی تحریکِ التوا یا تحریکِ پیش بندی؟ : نصرت جاوید کا کالم
- بلوچستان: ضلع کچھی میں مسلح افراد کا پولیس تھانے اور سرکاری دفاتر پر حملہ
- صوبوں کی تقسیم اور ملک کا ’مفرور صدر‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- دوسری دنیا کا قیام ممکن ہے : کمیونسٹ انٹرنیشنل کے یومِ تاسیس پر فہیم عامر کا خصوصی مضمون
- پیٹرول تین اور ڈیزل ڈھائی روپے لیٹر مہنگا کر دیا گیا
- پاکستان اور بھارت دیواریں گرائیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- سانحہ پمز ، ننھے فرشتے اور اجل کا فرشتہ : رضی الدین رضی کا کالم
- منڈی بہاؤ الدین میں فائرنگ کے واقعے میں جماعت احمدیہ کا مقامی عہدیدار ہلاک

