آئی ایم ایف نے پاکستان کو تئیسویں بار بیل آؤٹ پیکیج دیا ہے ، پہلا پیکیج 1958 میں دیا گیا تھا ۔ ملک میں جشن کا سماں ہے ، مبارک سلامت کا شور ، بھانڈوں کا بے ہنگم رقص اور درباریوں کی کورنشیں جاری ، وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو اس عظیم کارنامے پر مبارکبادوں کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا ، کچھ لوگوں کو گلہ ہے کہ وزیر خارجہ نے بھی بہت کوششیں کی تھیں انہیں کریڈٹ کیوں نہیں دیا جا رہا ۔۔۔ تماشہ جاری ہے ، ہم یوں بھی ایک تماشبین قوم ہیں ۔
نوے کی دہائی کا کوئی سال تھا ، ہم ڈیرہ غازی خان کالج چوک میں کیفے وقار پہ ہماچوں پر نیم دراز گپ شپ کر رہے تھے ، کیا جگہ تھی ۔۔ ایک ٹیس سی سینے میں اٹھتی ہے ، یوں تو دن بھر ہی وہاں آپ کو ہر طبقہ فکر کے لوگ مل جایا کرتے تھے لیکن شام کو تو میلہ سج جاتا تھا ، صحافی ، سیاسی کارکن ، دانشور ، شاعر ادیب ، اساتذہ ، ٹریڈ یونینز کے کارکن ، طلبہ اپنے اپنے حلقوں میں بٹے مصروف گفتگو ہوتے تھے اور یہ سلسلہ دیر رات گئے تک چلتا تھا۔
جس محفل کا میں ذکر کر رہا ہوں ، اس میں کسی دوست نے آئی ایم ایف پیکج ملنے کا ذکر کیا اور اس پر مسرت کا اظہار کیا گیا ، کہا گیا کہ آئی ایم ایف کے بعد ورلڈ بنک ، ایشین بنک اور اسلامک بنک کے پیکج بھی آئیں گے نتیجتاً ملک میں معاشی سدھار آئے گا ،خوشحالی آئے گی ، عوام کی حالت بہتر ہو گی ۔۔۔۔
دانشمند خاموش بیٹھا تھا ، میں نے پوچھا سرکار آپ کیا فرماتے ہیں ؟ انہوں نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا ( ان کا ایک مخصوص قہقہہ ہوتا تھا فلک شگاف بھی اور برق رفتار بھی ) اور فرمایا یار تم لوگ بالکل جاہل ہو ، دیکھو ممدو ( عام پاکستانی ) پیاز کے ساتھ روٹی کھاتا ہے ، وہ پیاز ہاتھ میں پکڑ کر زور سے چارپائی کے پائے پر مارتا ہے اور پھر اس کے ٹکڑے روٹی پر رکھ کر کھاتا ہے ، اپنے اس عمل سے ممدو دو انڈسٹریز کو بائی پاس کرتا ہے ؛ پلیٹ بنانے والی انڈسٹری اور چھری کانٹے بنانے والی انڈسٹری اور ہاں تیسری انڈسٹری بھی ہے ٹیلی ویژن انڈسٹری ۔۔۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے پیکجز کے بعد یہ ہو گا کہ ممدو چودہ انچ کا ٹی وی خریدے گا جس پر بیٹھی ایک خوبصورت خاتون اسے پیاز کاٹنے کے آداب سکھائے گی ، وہ پلیٹ اور چھری خریدے گا ، پیاز کاٹ کر اسے پلیٹ میں سجا کر رکھے گا اور اس پر نمک چھڑک کر روٹی کے ساتھ کھائے گا ۔۔۔ کھاسی اوہے وسل ۔۔۔۔ تے اوہے کھلے ۔۔۔
ایمانداری سے بتائیں کہ کیا آج تک ایسا ہی نہیں ہو رہا !
یہ دانشمند تھے جناب محمود نظامی ، دانشور تو آج بھی بہت ہیں لیکن دانشمندوں کی وہ آخری نسل میں سے تھے جو تقریباً معدوم ہو چکی ہے ، ہو سکتا ہے کہیں اکا دکا معدومیت کے خطرے سے دوچار کوئی اور دانشمند بھی موجود ہوں اور مجھے علم نہ ہو۔
ایک بار کسی دانشور نے ملک کے تجارتی خسارے کے حوالے سے کہا کہ سامان تعیش کی درآمد فوراًبند ہونی چاہیے ، نظامی صاحب نے پوچھا سامان تعیش سے آپ کی مراد کیا ہے ؟ انہوں نے کہا یہ میک اپ اور آرائش و زیبائش کا سامان ، الیکٹرانکس ، قیمتی گھڑیاں اور گاڑیاں وغیرہ ۔۔۔ نظامی صاحب نے کہا بات سنو فرض کرو ایک امپورٹر ایک کروڑ لپ اسٹکس درآمد کرتا ہے پانچ روپے فی لپ اسٹک کے حساب سے ؛ یہ پانچ کروڑ کا زرمبادلہ خرچ ہوا ، اس پر اس نے پانچ کروڑ کسٹم ڈیوٹی کی مد میں قومی خزانے کو ادا کیے ، اب اس نے یہ سٹاک دس ڈسٹری بیوٹرز کو بارہ روپے فی ٹیوب کے حوالے سے فروخت کر دیا ، اسے دو کروڑ بچے ، اس پر بھی وہ سرکار کو ٹیکس ادا کرے گا ، اس منافع کو کسی کاروبار ، کسی صنعت میں انویسٹ کرے گا ، اور جن دس ڈسٹری بیوٹرز نے دس دس لاکھ لپ اسٹکس ایک کروڑ بیس لاکھ میں خریدی ہیں وہ آگے ایک ایک لاکھ ٹیوبز سو ہول سیلرز کو بیچتے ہیں پندرہ روپے فی ٹیوب کے حساب سے تیس تیس لاکھ کا منافع انہیں ہوا ، وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دے سکیں گے، کہیں انویسٹ بھی کریں گے اور ٹیکس بھی دیں گے ، کوئی تعمیرات کرائیں گے تو مستری مزدوروں کو روزگار ملے گا ،اب یہ سو ہول سیلرز ایک ایک سو ٹیوبز ہزار چھوٹے ریٹیلرز کو بیس بیس روپے میں فروخت کرتے ہیں تو پانچ پانچ لاکھ انہیں بھی بچ گئے اور یہ چھوٹا دکاندار انہیں چالیس روپے سے کم پر تو نہیں بیچے گا، یوں دو دو ہزار گلی محلے والا چھوٹا دکاندار بھی کما لے گا اس کا چولہا بھی جلتا رہے گا اور جو خاتون اسے خرید کر لگائے گی اور مم مم کرنے کے بعد اپنا عکس آئینے میں دیکھے گی اسے کتنی خوشی ملے گی اور جب ان خواتین کے خاوند منگیتر یا دوست انہیں دیکھیں گے تو انہیں کتنی خوشی میسر آئے گی ، تم عجیب دانشور ہو لوگوں کو روزگار اور خوشیوں سے محروم کرنا چاہتے ہو ۔۔۔۔
اور وہ جو ایک جنگی جہاز ایک ارب روپے کا آتا ہے وہ کتنی کسٹم ڈیوٹی ادا کرتا ہے اور روزگار اور خوشیوں کے کتنے مواقع پیدا کرتا ہے ، اس کی بات تو تم نہیں کرتے ؟
ایک بار سی ایس ایس کے کچھ امیدواران بیٹھے تھے اور زبانی امتحان میں پوچھے جانے والے کچھ کامن سوالات کا ذکر ہو رہا تھا ، ایک سوال تھا آپ کی ناپسندیدہ عالمی شخصیت ! نظامی صاحب نے ایک نوجوان سے پوچھا آپ کیا جواب دیں گے ؟ اس نے شمالی کوریا کے لیڈر کا نام لیا اور کہا کم ژونگ ان ، نظامی صاحب نے پوچھا کیوں ، اس نے کہا سر وہ بدترین ڈکٹیٹر ہے ، کورین عوام پر ظلم کرتا ہے ، پھر اس نے اپنے نیوکلیئر بموں اور میزائلوں سے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے ، نظامی صاحب نے کہا تم فیل ہو جائو گے ، تمہارے ممتحنوں کے چیئرمین ایک جنرل صاحب ہیں اور شمالی کوریا وہ ملک ہے جس نے ہمیں میزائل ٹیکنالوجی دی ہے۔۔۔
ایک بار انہوں نے ایک چودھری صاحب کا واقعہ یا لطیفہ سنایا جو کامونکی سے چاول فروخت کرنے لاہور گئے تھے ، جیب میں پیسے آئے تو شاہی محلے جا پہنچے اور وہاں بالا خانے پہ ایک طوطے نے خیر مقدمی کلمات ادا کیے تو چودھری صاحب تمام رقم دے کر وہ طوطا خرید لائے ، طوطا دن بھر گھر آنے والوں کا اچھے کلمات سے خیرمقدم کرتا رہا شام ہوئی تو خواتین خانہ سے کہنے لگا تیار ہو جائو دھندے کا ٹائم ہو گیا ہے ، بین السطور یہ بات تھی کہ دنیا کب تک آپ کو کھلائے گی ، اب وہ کہے گی کہ کام دھندے سے لگو ۔۔۔ آج آپ دیکھ رہے ہیں سعودی عرب اور یو اے ای تک آپ سے کہہ رہے ہیں اب بہت ہو گئی خود کمائو۔
بین السطور سے یاد آیا ایک بار کسی نے کہا نظامی صاحب یہ جو آپ انتہائی درست سیاسی پیش گوئیاں کرتے ہیں تو یقیناً آپ کے ایجنسیوں کے ساتھ روابط ہیں وہ آپ کو بتاتے ہیں یہ سب ،کہنے لگے جاہلو تم اخبارات میں خبروں کے متن پڑھتے ہو میں بین السطور پڑھتا ہوں۔
اسی طرح ایک بار دانشور حضرات ملکی معیشت کی تباہی کی وجوہات پر بحث کر رہے تھے تو نظامی صاحب نے اپنا مخصوص قہقہہ لگایا اور کہا فقیر دن بھر بندر کو لے کر گھومنے کے بعد شام کو اپنی کلی میں پہنچا تو اس کے پاس ایک ہی روٹی تھی ، اس نے بندر سے کہا پیارے دوست ہم دو ہیں روٹی ایک ہے ، آدھی آدھی کھائیں گے تو دونوں بھوکے مریں گے ، لہذا اسے میں ہی کھا لیتا ہوں ۔۔۔۔
جناب محمود نظامی ، مرشد ارشاد تونسوی ، محمد یار خان قیصرانی دانشمند دانشوروں کی نسل کے آخری لوگ تھے ۔۔۔
خدا رحمت کند ایں ٫٫ دانشمندان ،، پاک طینت را۔۔۔۔۔
Previous Articleعالمگیر ترین کی خودکشی کی وجوہات کیا ہیں ؟ جائے وقوعہ کو سیل کر دیاگیا آلہ قتل برآمد
Next Article عطا ء الحق قاسمی کا کالم:کیسے کیسے لوگ؟

