سردیوں کی بارش تو آگ جیسی ہوتی ہے
آگ جو محبت ہے
ہجر ہے،رفاقت ہے
آگ جو دہکتی ہے
آگ جو بہکتی ہے
آگ جوبھڑکتی ہے
آگ جو دھڑکتی ہے دل کے ایک گھاﺅ میں
یاد رقص کرتی ہے سرخ سے الاﺅ میں
سردیوں کی بارش کچھ زردیاں سی لاتی ہے
اک سفر کے لمحوں کی یاد ہم کوآتی ہے
اک سفر جو کاٹا تھا آنسوﺅں کی بارش میں
ہجر کی رفاقت میں،وصل ہی کی خواہش میں
وصل جو گماں بھی تھا
وصل جو یقیں بھی تھا
وصل جو جواں بھی تھا
وصل جو نہیں بھی تھا
سردیوں کی بارش میں وصل کی رفاقت میں
ہجر کے زمانے ہیں
ہجر کے زمانوں میں
ہم ہیں داستانوں میں
داستان جاری ہے
بارشوں کی صورت میں امتحان جاری ہے
سردیوں کی بارش تو آگ جیسی ہوتی ہے
بین کرتی بیوہ کی سسکیوں سے وابستہ
سوگوار لمحوں کے راگ جیسی ہوتی ہے
آگ جیسی ہوتی ہے
ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

