وہ دل کہ جس میں خُدا مکیں ہے
وہ دِل دُکھاؤ تو یاد رکھنا !
کِسی کی آنکھوں میں درد پا کر
جو مُسکراؤتو یاد رکھنا !
جو ہار بیٹھا ہو تُم پے سب کُچھ
اُس آدمی سے
جو خُود پرستی میں جیت جاؤ تو یاد رکھنا !
کسی کے غم پر جو بےحسی ہو
اور اس گھڑی جشن تم مناؤ تو یاد رکھنا !
بدن کی خستہ عِمارتوں پر
ہوس کا محل گر بناؤتو یاد رکھنا !
کسی کے چہرے پے فِکرِ دوراں کی سِلوٹوں میں
کِسی سرہانے رکھی ہُوئی بھیگی کروٹوں میں
اُداس آنکھوں کی سُرخ مائل سی تِشنگی میں
لرزتی سانسوں میں ختم ہوتی سی زندگی میں
جو سنگدِلی کا قرار پاؤتو یاد رکھنا !
کہ دیر ہے پر اندھیر دنیا میں تو نہیں ہے
کہ عرش والا زمین پر بھی تو دیکھتا ہے
وہ دُور بیٹھا کرم تُمہارے
تُمہارے کھاتے میں لکھ رہا ہے
بہت کڑا وہ حِساب کرتا ہے یاد رکھنا ۔۔۔۔۔
تُم اُس کا انصاف بھُول جاؤ ہزار لیکن!!!
بشر کی اپنے ہر ایک لغزش
وہ یاد رکھتا ہے یاد رکھنا ۔۔۔۔۔
پیر, اکتوبر 26, 2026
تازہ خبریں:
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم

