لندن: مغربی لندن میں واقع ایک 27منزلہ رہائشی عمارت کو آگ کے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس واقع میں متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے ۔ گرین فل ٹاور نامی عمارت میں 120 فلیٹس ہیں جہاں 40 فائر انجنز اور200 فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ میں پولیس اور فائر سروسز کے حوالے سے بتایا گیا کہ آتشزدگی کے بعد عینی شاہدین نے عمارت کی بالائی منزلوں سے چیخنے چلانے کی آوازیں سنیں جبکہ کچھ رہائشیوں کو مدد کے لیے سفید رنگ کے کپڑے لہراتے بھی دیکھا گیا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ عمارت کو خالی کرنے کا کام جاری ہے جبکہ رہائشی افراد کو طبی امداد بھی فراہم کی جارہی ہے۔ فائر سروس کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام کے مطابق دوسری منزل سے شروع ہونے والی آگ نے 27 منزلہ عمارت کی تمام بالائی منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔لندن فائر بریگیڈ کے اسسٹنٹ کمشنر ڈین ڈیلی کے مطابق یہ ایک بڑا اور سنگین واقعہ ہے اور آگ پر قابو پانے کے لیے متعدد وسائل اور خصوصی آلات کا استعمال کیا جارہا ہے۔ لندن کے میئر صادق خان نے واقعے سے متعلق اپنی ٹوئٹ میں گرینفل ٹاور آتشزدگی کوبڑا واقعہ قرار دیا۔عمارت کے قریب رہائش پذیر اداکار اور لکھاری ٹم ڈانی کا کہنا تھا کہ ‘یہ بہت خوفناک آگ ہے، پوری عمارت شعلوں میں گھری ہوئی ہے، یہ مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔ پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق عمارت میں لگنے والی آگ کی اطلاع مقامی وقت کے مطابق رات سوا ایک بجے موصول ہوئی۔میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں کو مختلف قسم کی چوٹیں آئی ہیں جن کا علاج معالجہ کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق عمارت کے منہدم ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ پروگرام امیزنگ سپیسز کے میزبان جارج کلارک نے ریڈیو فائیو لائیو کو بتایا کہ میں عمارت سے صرف 100 میٹر دور ہوں اور دھواں سے ڈھک چکا ہوں جو کہ بہت برا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ بہت تکلیف دہ منظر ہے۔ میں نے کسی کو دیکھا ہے جو اپنی ٹارچ جلا کر عمارت کے اوپر والے حصے کو دیکھ رہا ہے لیکن وہ باہر نہیں جا سکتا ایک عینی شاہد کے مطابق عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر جل چکا ہے، میں نے پہلے کبھی ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا ، یہ بہت بڑی آگ کی طرح ہے۔خبر ایجنسی ذرائع کے مطابق تاحال آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے ۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور علاقے سے لوگوں کا انخلا جاری ہے۔ واضح رہے کہ یہ کثیرالمنزلہ بلاک 1974 میں قائم کیا گیا تھا جبکہ مقامی رہائشیوں کو ایک سال قبل آگاہ کیا گیا تھا کہ ترقیاتی کام کے دوران جمع ہونے والا کچرا آگ لگنے کا سبب بن سکتا ہے۔
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

