ملتان : روزنامہ دنیا ، روزنامہ ایکسپریس اور روزنامہ نوائے وقت کے بعد روزنامہ جنگ ملتان میں بھی ڈاﺅن سائزنگ کی تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دنیا ،ایکسپریس اور نوائے وقت کی طرز پر جنگ ملتان کوبھی محدود سٹاف کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔ ملتان کے لیے کراچی آفس میں الگ ڈیسک قائم کردیاگیاہے جہاں ملتان سے گئے ہوئے سٹاف نے ذمہ داریاں بھی سنبھال لی ہیں۔جب کہ مزید سٹاف بھی کراچی بھیج دیا جائے گا ۔
لاہور سے ایک ٹیم بھی ملتان پہنچ رہی ہے تاکہ جس سٹاف کو فارغ کیاجارہا ہے اس کے واجبات ادا کیے جاسکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ جنگ ملتان کو تین سے چار رپورٹروں اور دو سے تین سب ایڈیٹرز کے ذریعے تیار کیاجائے گا ۔ میگزین سیکشن اور جنگ فورم ، کمپیوٹر سیکشن بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثناءپاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ،انجمن صحافیان سمیت مختلف صحافتی تنظیموں نے اخباری کارکنوں کے معاشی قتل پر احتجاج کیا ہے۔الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن (ایمرا) کے صدر محمد آصف بٹ اور سیکرٹری ایمرا سلیم شیخ نے روزنامہ ملتان سے 60 ورکرز کی ممکنہ برطرفی کی اطلاعات پر شدید غم وغصہ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل دنیا نیوز ، نوائے وقت بھی صحافتی کارکناں پر شب خون مار چکے ہیں اور روزنامہ ایکسپریس نے بھی ملتان سے اپنے کارکنوں کو فارغ کیا تھا ۔صحافتی مالکان کی آپس کی ملی بھگت سے بے روزگاری پھیل رہی ہے اور ہمارے کارکنوں نے اپنی ساری عمر میڈیا انڈسٹری کو دی۔ مالکان کے ہر کام تحفظ کیا ہے اور میڈیا کارکناں کے نام پر ملنے والی سہولیات لیکر مالکان اربوں پتی بن چکے ہیں ۔ہم ان کے ورکرز دشمن اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا دنیا سمیت ایسے تمام اداروں کی تقریبات کا بھی بائیکاٹ کیا جائے گا
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

