ریاض : سعودی عرب کی ایک عدالت نے پانچ افراد کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنا دی ہے۔سرکاری وکیل کے مطابق یہ واقعہ بغیر اجازت کے کیے گئے ایک آپریشن کے نتیجے میں پیش آیا تھا اور 11 افراد کو اس قتل کے الزام میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔
اقوامِ متحدہ کے ایک ماہر کے مطابق یہ ایک ’ماورائے قانون قتل‘ تھا۔اقوامِ متحدہ کی سپیشل ریپرٹور ایگنس کیلامارڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس قتل کے حوالے سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی تفتیش کی جائے۔
سعودی ولی عہد نے اس واقعے سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، تاہم اکتوبر میں انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب کے رہنما کی حیثیت سے وہ اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
بدھ, اکتوبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟

