کوئٹہ : بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش اور برفباری کےباعث متعدد علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں رابطہ سڑکیں بند ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی رابطہ سڑکیں بند ہیں جس کی وجہ سے ذرائع آمدورفت بحال نہیں ہوسکے۔ شاہ نورانی کے پہاڑی علاقوں سے بارشوں کے ریلے حب ڈیم میں داخل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ نوشکی میں برساتی پانی سے خیصار ندی پر قائم رابطہ پل اور کشنگی کے مقام پر متاثر ہونے والی ریلوے لائن کی بحالی کا کام جاری ہے، قلعہ عبداللہ، چمن، توبہ اچکزئی اور توبہ کاکڑی میں درجنوں مکانات متاثر ہوئے ہیں۔
کوئٹہ سے زیارت اورسنجاوی جب کہ زیارت شہر کا کواس، وام اور ورچوم سے زمینی رابطہ بدستور منقطع ہے۔ دکی میں کوئلے کی کانوں میں سیلابی ریلا داخل ہونے کے باعث کانکنی کو نقصان پہنچا ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق ضلع قلعہ عبداللہ میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کے لئے فوج سے مدد مانگ لی گئی ہے۔ جبکہ متعلقہ صوبائی محکموں کو ہنگامی بنیادوں پر امدادی کاروائیوں کی ہدایت بھی جاری کردی گئی ہے۔بارش کے حالیہ سلسلے سے قلعہ عبد اللہ ٹاؤن اور گرد و نواح کے علاقے زیادہ متاثر ہوئے۔ کئی گھنٹے جاری رہنے والی بارش کی وجہ سے مختلف علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا۔ کوئٹہ سمیت قلات، لوئر دیر، استور، مری، آزاد کشمیر اور شمالی وزیرستان کے نواحی علاقوں میں تین روز سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس سے سردی کی شدت میں بے انتہا اضافہ ہوگیا ہے۔ آزاد کشمیر کے ضلع نیلم، ہٹیاں، بالا باغ، حویلی اور پونچھ کے میدانی علاقوں کے پہاڑوں کو برفباری نے لپیٹ میں لے لیا جب کہ شمالی وزیرستان کے علاقے شوال، رزمک اور دتہ خیل میں بھی برفباری ہورہی ہے۔ سوات کے علاقے کالام اور ملم جبہ میں جب کہ لوئردیر کے علاقے مسکینئ درہ، کلپانی، وادی لڑم، بنشاہی اور لاموتے میں بھی برفباری اور بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔اسلام آباد، لاہور، راولپنڈی سمیت پنجاب کے مخلتف شہروں میں مطلع جزوی ابرآلود ہے اور تیز ہواؤں سے ٹھنڈ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ قلعہ عبد اللہ کے مقامی صحافی حیات اللہ اچکزئی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ سیلابی پانی سے متعدد دکانوں اور گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔سیلابی پانی سے نوشکی اور خضدار کے بعض علاقوں کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع میں بھی لوگ متاثر ہوئے ہیں۔بارش اور شدید برفباری سے کوئٹہ، قلات، مستونگ، قلعہ سیف اللہ، پشین اور قلعہ عبد اللہ کے اضلاع کے مختلف علاقوں میں رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔پشین کے علاقے توبہ کاکڑی کا راستہ بھی بند ہے۔ اس علاقے کے ایک مکین روزی خان کاکڑ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ توبہ کاکڑی کے راستے بند ہونے سے لوگوں کے لیے آمد و رفت مشکل ہوگئی ہے۔ انھوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ علاقے میں امدادی ٹیمیں بھیجیں تاکہ راستوں کو کھولا جاسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ راستوں کی بندش کی وجہ سے خوراک کی بھی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔کوئٹہ ژوب، کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ جیکب آباد ہائی وے پر برفباری کی وجہ سے کئی مقامات پرٹریفک معطل رہی جبکہ ان علاقوں میں پھنسے ہوئے مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ رابطہ سڑکوں کو کھولنے کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی امداد کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔
جمعرات, اکتوبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار

