ضلع کرم میں پاراچنار مرکزی شاہراہ کو بند ہوئے 79 دن گزر گئے جس کے باعث ادویات اور خوراک کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔
گرینڈ امن جرگہ فریقین سے مذاکرات مکمل کرنے کے باوجود اب تک کسی حتمی فیصلے تک نہ پہنچ سکا، راستوں کی بندش سے علاقے میں ادویات نہ پہنچنے کے باعث پاراچنار کے اسپتالوں سے مسلسل اموات کی خبریں آرہی ہیں جبکہ لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں ایم ڈبلیو ایم کے احتجاجی دھرنے، ٹریفک جام
ابتر صورتحال کے خلاف پاراچنار میں 8 دن سے احتجاجی دھرنا جاری ہے، مظاہرین سے یکجہتی کے لیے اسلام آباد، لاہور، جھنگ اور مظفرآباد سمیت مختلف شہروں میں دھرنے دیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک کی صورتحال
ٹریفک پولیس کے مطابق پارا چنار صورتحال پر مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، ایم اے جنا ح روڈ نمائش چورنگی ٹریفک کے لیے بند ہے، ٹریفک کو پیپلز چورنگی،گرو مندر سے سولجر بازار متبادل راستہ فراہم کردیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ابو الحسن اصفہانی روڈ سے سپر ہائی وے، عباس ٹاؤن کی سڑکیں بند ہیں، ٹریفک کو پیراڈائز بیکری سے فاریہ چوک کی طرف متبادل راستہ دیا گیا ہے، فائیو اسٹار چورنگی بند، سروس روڈ سے ٹریفک کی روانی جاری ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق ٹریفک کو اندرون علاقوں میں متبادل راستہ دیا گیا ہے، شاہراہ فیصل اسٹارگیٹ سے ملیر کا راستہ بھی بند ہے، ٹریفک کو ڈرگ روڈ سے راشد منہاس روڈ کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔ نیشنل ہائی وے ملیر 15 برج چڑھائی جانب قائدآباد کی سڑک بند ہے۔
(بشکریہ:جیونیوز)
پیر, اکتوبر 26, 2026
تازہ خبریں:
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم

