کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز پر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے وفاق سے سندھ میں امن وامان کی صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی اور سندھ میں رینجرز کو مکمل اختیارات دیے جائیں۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ نئے وزیراعلیٰ اور آئی جی سندھ کے بعد ڈاکوؤں کو قتل کا لائسنس مل گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ اتنے غیر ذمہ درانہ بیان کیوں دے رہے ہیں، نیا آئی جی سندھ آیا تو لگا کچے کے ڈاکوؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، کراچی سے کشمور تک کچے اور پکے کے ڈاکو شادیانے بجا رہے ہیں۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی کے معاملے پر وفاق کو بلیک میل کیا، مبارک ہو آپ کا من پسند آئی جی سندھ آ گیا۔ رینجرز کو صرف کراچی میں اختیارات حاصل ہیں سندھ میں نہیں، کراچی اور سندھ میں رینجرز کو یکساں اختیارات دیے جائیں۔
دہشتگردی میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا مبینہ استعمال: کیا مالاکنڈ میں اب مکمل پابندی لگنے جارہی ہے؟
خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ صدر اور وزیراعظم کراچی میں خون کی ہولی کا نوٹس لیں، ایسا لگ رہا ہے ڈاکوؤں کو لائسنس ٹوکل مل گیا ہے، رینجرز نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے میں اختیار دیں، امن وامان قائم کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صرف 50 لوگ تو مرے ہیں اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے آپ کا کون مرا ہے جو مسئلہ ہوگا؟ ہزاروں موٹرسائیکل، گاڑیاں چھین لی جاتی ہیں، کوئی ایف آئی آر نہیں کٹواتا، وزیراعظم اور صدر کو ہم نے صدارت کا ووٹ دیا ہے، سندھ میں صدر صاحب کی صوبائی حکومت ہے ان سے گزارش ہے حالات کا نوٹس لیں۔
ایم کیو ایم رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اپنی کامیابی کے خمار سے باہر ہی نہیں آرہی۔ کراچی میں رمضان میں ڈکیتی مزاحمت پر بہت سے شہریوں کو قتل کیا گیا۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے انتظامیہ کو بلاکر سوال کیے، ایسا نہیں ہے کہ آئی جی اس سے پہلے اس صوبے میں نہیں رہے، پولیس کی کالی بھیڑوں کی مدد کے بغیر کوئی سنگین جرم ہو ہی نہیں سکتا۔
فیصل سبزواری نے کہا کہ سندھ پولیس واحد ہے کئی بار مجرم بھی ان کی صفوں سے ملتے ہیں، کراچی میں معصوم شہریوں کی لاشیں گرتی تھیں تو وفاق نوٹس لیتا تھا، اب وفاقی حکومت کراچی کی صورتِ حال کا نوٹس کیوں نہیں لے رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے وفاقی وزراء کی کراچی میں دوڑیں لگی ہوتی تھیں اب کیوں نہیں آتے، کراچی میں شہری محفوظ ہیں نہ ہی کشمور میں، وہاں کچے کے ڈاکو، یہاں کراچی کے ڈاکوؤں کے خلاف کچھ نہیں کررہے، وفاقی وزیرداخلہ کراچی آئیں اور سندھ حکومت کے ساتھ بیٹھیں۔
ہم نے مطالبہ کیا نیبرہڈواچ سسٹم بنائیں اب اہم بناکر دکھائیں گے، کراچی میں چوری کے موبائل فونز کی مارکیٹ، کیا پولیس کی سرپرستی کے بغیر چلتی ہے، وزیر داخلہ سندھ منہ کھولنے سے پہلےآنکھیں کھولیں۔
(بشکریہ:ویب ڈیسک)
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم

