اب یہ تم پر ہے کہ تم کیا بننا چاہتی ہو۔
دنیا؟ وہ دنیا جو تمہارے بارے میں وہ رائے قائم کرتی ہے جو خود تمہاری اپنے بارے میں نہیں ہے؟
یا تم محبت بننا چاہتی ہو؟
وہ محبت، جو شاید تمہیں مجھ سے ہے، اور جو یقینا مجھے تم سے ہے۔
یہ فیصلہ اب تمہارا ہے کہ تم کیا کرنا چاہتی ہو۔
اپنی زندگی جینا چاہتی ہو، جو دراصل تمہاری ہے؟
یا وہ مصنوعی زندگی، جس کے لیے معاشرے نے تمہیں پابند کر دیا ہے؟
یہ اب تمہاری چوائس ہے کہ تم کیا کہنا چاہتی ہو۔
وہ سچ جو تمہارے دل میں ہے،
یا وہ جھوٹ، جسے ریاست نے سچ بنا کر تم سے بلوانے کے لیے پیش کر دیا ہے؟
اب یہ سب تم پر ہے کہ تم کسے چھونا چاہتی ہو۔
اُسے جو تمہارے لیے ایک آئیڈیل بنا کر تمہاری زندگی میں شامل کر دیا گیا ہے؟
یا مجھے؟ جو بنا ہی تمہارے لیے ہوں۔
زندگی کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم اسے آزادی سے جئیں۔
وہی آزادی جس کے ہم دونوں متلاشی ہیں،
اور جس آزادی کی پہلی منزل ہماری ملاقات ہے۔
کیا تم زندگی کی یہ خوبصورتی دیکھنا چاہتی ہو؟
تم نے مجھ سے ملنے کے سب دروازے مجھ پر، اور شاید خود پر بھی، بند کر دیے۔
لیکن میں اب تم سے وہ سب کہوں گا جو میں تم سے مل کر کہنا چاہتا تھا۔
کیا تم مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہو؟
کیا تم سماجی تفریق پر یقین رکھتی ہو؟
کیا تم سمجھتی ہو کہ سماج کے بنائے ہوئے اصول ہمارے درمیان حائل وہ سرحدیں ہیں جنہیں تم عبور نہیں کر سکتیں؟
یا تم زمانے کے دستور توڑ کر مجھے اپنانا چاہتی ہو؟
کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنی ساری زندگی تم سے ملنے کے انتظار میں بسر کر دے،
اور جب تم ملو تو اُس سے یوں لاتعلق ہو جاؤ جیسے ہم کبھی ملے ہی نہیں؟
کیا تم سمجھتی ہو کہ ہمیں ہوا کے رخ پر چلنا چاہیے اور موافقت سے زندگی گزارنی چاہیے؟
یا تم انقلاب چاہتی ہو، تاکہ ہم دونوں اور ہماری یہ عظیم دنیا آگے بڑھ سکیں ؟
تم نے کہا تھا کہ میری باتیں مشکل ہیں اور وہ تمہیں الجھا رہی ہیں۔
تم یہ مشکل سوال خود سے پوچھو۔
کیا تم آسان پسند ہو؟
کیا تم دوسروں کی سلجھی سلجھائی زندگی جینا چاہتی ہو؟
یا اپنی زندگی اپنی الجھنوں کے ساتھ جینا چاہتی ہو؟
وہ الجھنیں، جنہیں خود سلجھانا تمہاری زندگی کا مقصد بن جائے؟
جو تمہارا حق ہے۔
میں جانتا ہوں کہ تم یہ سب کر سکتی ہو، اور یہ میں تمہیں بتا بھی چکا ہوں۔
لیکن کیا تم جانتی ہو؟
عقلیت کہتی ہے کہ میں تم سے جو بھی توقعات وابستہ کروں وہ خود فریبی ہے۔
اور تمہیں کھونے کا صدمہ برداشت کرنے کے لیے میرے اپنے ذہن کا بنایا ہوا کشن ہے۔
لیکن عشق، جو عقل سے ماورا ہے،
جسے نہ میں سمجھ سکتا ہوں، اور نہ تم شاید کوئی متبادل رائے دے سکے؟
ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

