لورالائی : ہلاک شدگان میں شامل صابر نامی شخص کا تعلق کامونکی کے نواحی گاؤں سے ہے۔ ان کے بھائی امجد نے بتایا کہ صابر گذشتہ 15 سال سے کوئٹہ میں باورچی کا کام کرتا تھا اور اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’صابر اپنے چار بچوں اور اہلیہ سے ملنے کے لیے آ رہا تھا کہ شدت پسندوں کا نشانہ بنا۔‘ امجد کے مطابق وہ اتنے وسائل نہیں رکھتے کہ بلوچستان جا کر بھائی کی لاش لا سکیں اور انھوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ ’میت کی واپسی کا انتظام کریں۔‘
حکام کے مطابق ان مسافروں کو بلوچستان سے پنجاب جانے والی دو مسافر بسوں سے اتارا گیا اور یہ واقعہ جمعرات کی شام سرہ ڈاکئی نامی علاقے میں کوئٹہ کو ڈیرہ غازی خان سے ملانے والی قومی شاہراہ پر پیش آیا جہاں مسلح افراد نے ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم نے بی بی سی اردو کے محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے نو مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق کی اور بتایا کہ ہلاک شدگان کی لاشوں کو پنجاب کے حکام کے حوالے کردیا گیا ہے اور انھیں ان کے آبائی علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہلاک کیے جانے والے تمام افراد کو بسوں سے اتارنے کے بعد ایک قریبی نالے میں لے جایا گیا اور گولیاں مار دی گئیں۔
دریں اثناء ڈی جی خان: انتظامیہ نے لورالائی میں قتل کیے جانے والے 9 مسافروں کی لاشیں وصول کرلیں۔کمشنر ڈی جی خان اشفاق احمد کے مطابق جاں بحق 9 افراد کی لاشیں بلوچستان پنجاب سرحدپر وصول کرلی گئی ہیں جہاں سرحدی علاقے بواٹہ پر میتیں پولیٹیکل اسسٹنٹ اسد چانڈیہ نے وصول کیں جس کے بعد میتوں کو ان کے آبائی علاقوں میں روانہ کردیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق قتل کیے جانے والے تمام 9 مسافروں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔انتظامیہ نے بتایا کہ 2 بھائی جابر اور عثمان کا تعلق لودھراں کی تحصیل دنیاپو رسے تھا، محمد عرفان کا تعلق ڈی جی خان، صابر گوجرانوالہ، محمد آصف مظفرگڑھ اور غلام سعید کا تعلق خانیوال سے تھا۔اس کے علاوہ محمد جنید کا تعلق لاہور، محمد بلال کا اٹک اور بلاول کا تعلق گجرات سے تھا۔واضح رہےکہ 10 اور 11 جولائی کی درمیانی شب فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نےکوئٹہ سے لاہور جانیوالی مسافر بس سے 9 مسافروں کو اغوا کرکے قتل کردیا۔
اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم کے مطابق دہشتگردوں نے 9 مسافروں کو اغوا کے بعد فائرنگ کرکے قتل کیا۔
( بشکریہ بی بی سی / جیو نیوز )

