پاکستان سائیں بابوں کے حوالے سے خود کفیل ہے یہاں ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں کوئی شہر، قصبہ، گاؤ ں اور کوچہ ایسا نہیں ہے جہاں کسی نہ کسی قسم کا سائیں بابا نہ پایا جاتا ہو۔سوٹڈ بوٹڈ اور دانشور سائیں بابے،فرفر انگریزی بولتے سائیں بابے، ننگ دھڑنگ سائیں بابے،گجے سائیں بابے ظاہرہ سائیں بابےغرض ہر ورائیٹی کا مال بکثرت موجود ہے۔۔
دانشور سائیں بابے از قسم اشفاق احمد، شہاب، ممتاز مفتی، واصف علی واصف اور احمد رفیق اختر کا تو ایک زمانہ گرویدہ ہے۔ ماضی میں بھی اور آج بھی سرکار دربار تک ایسے دانشور سائیں بابوں کی رسائی حاصل ہے۔
میں جس سائیں بابا کا ذکر کرنے جارہاہوں اس کا کیا نام تھا یہ کہاں سے آیا تھا کسی کو اس بارے کچھ معلوم نہیں تھا۔ لاہور کے راوی روڈ پر لیڈی ولنگڈن ہسپتال سے ذرا آگے جہاں آج کل آزادی فلائی اوور بن گیا ہے اس کے بالکل ساتھ ایک سائیں بابا بیٹھا کرتا تھا جسے لوگ چھتری سائیں یا چھتری والی سرکار کہتے تھے۔
اس بابے کو چھتری سائیں کیوں کہتے تھے اس کی وجہ وہ چھتری تھی جو کسی نے اس مجذوب کو گرمی سردی سے بچانے کے لئے مہیا کردی تھی اور یوں یہ چھتری ہی اس کی پہچان گئی تھی۔لمبا دھڑنگا یہ سائیں بابا جس کے سر اور جسم پر گھنے بال سیاہ بال تھے جو ہر وقت انھیں کھجاتا رہتا تھاکب سے اس جگہ پر بیٹھا ہوا تھا اس بارے میں جتنے منہ اتنی باتیں ۔۔
کوئی کہتا کہ یہ 1947 سے قبل کا یہاں بیٹھا ہوا ہے کوئی کہتا کہ نہیں یہ تو پچھلے بیس تیس سال سے ہی یہاں ڈیرہ جمائے ہوئے ہے۔ میں نے اسے 1970 کی دہائی کے لگ بھگ دیکھناشروع کیاتھا۔ وہ چھتری کے پاس کھڑے ہوکر زور زور سے بولتا اور بعض اوقات خودکلامی کرتا۔ وہ کیا بات کہتا یا کرتا تھا کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا جب وہ غصے میں بولتا تو اس کے ارد گرد بیٹھے خواتین وحٖضرات اس کی گفتگو سے اپنا مطلب نکال لیتے تھے۔بابے کی زبان سمجھنے سے سبھی قاصر تھے۔
بابا کیا تھا اور کیا بولتا تھا اس کا بھید بہت بعد میں جاکر مجھ پر کھلا۔ہمارے ایک فیملی فرینڈ تھے جن کا خاندان سری نگر سے ہجرت کرکے پاکستان آیاتھا، ان کا نام بلبل شاہ تھا( کشمیری زبان میں شائد شاہ کا مطلب فقیر ہے) بلبل شاہ کی فیملی اپنے گھر میں کشمیری زبان بولتی تھی۔بلبل شاہ رہتا تو پیر ودھائی راولپنڈی میں تھا لیکن اس کا لاہور آنا جاتا لگا رہتا تھا اور وہ جب بھی لاہور آتا تو ہمارے ہاں ہی ٹھہرتا جو مینارپاکستان کے نواح میں تھا۔ ایک دفعہ بلبل شاہ کا جو وہاں سے جہاں چھتری سائیں بیٹھتا تھا گذر ہوا تو اس نے سنا کہ بابا تو اونچی آواز میں کشمیری زبان بول رہا ہے۔ بلبل شاہ کو تجسس ہوا اور وہ چھتری سائیں کے قریب چلا گیا۔ بابا تو واقعی کشمیری بول رہا تھا بلبل شاہ کو یقین ہوگیا،وہ بابےکے پاس گیا اور اس نے کشمیری میں اس سے بات کی۔
بابا ایک دم جیسے رک سے گیا اور اسے غور سے دیکھنے لگا۔ بابے کا سارا زور شور اور اس کی آواز کی گھن گھرج ایک دم بیٹھ گئی، بلبل شاہ نے کچھ الفاط کشمیری میں ادا کئے تو بابا اس کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگااور پھر دونوں لکڑیوں کی آگ جو بابا ہر وقت چھتری کی نیچے جلائے رکھتا تھا کے گر د بیٹھ گئے اور پھر بابا ارد گرد سے لا تعلق بلبل شاہ سے کشمیری میں گفتگو کرتا رہا ۔ اب تو یہ معمول ہوگیا کہ بلبل شاہ جب بھی لاہور آتا تو وہ چھتری سائیں کے پاس ضرور جاتا اور دونوں کشمیری میں بات چیت کرتے۔ ایسا لگتا کہ بابے کو بلبل شاہ سے کشمیری میں بات کرکے اطیمنان و سکون ملتا تھا کیونکہ جوں ہی بلبل شاہ پر اس کی نظر پڑتی وہ اس سے مخاطب ہوتا۔
چھتری سائیں 1970 کی دہائی کے آخر میں اپنی اسی چھتری کے نیچے ایک دم مردہ پایا گیا۔مریدوں نے اس جگہ پر قبر بنا کر اسے مرکز تجلیات قرار دے دیا۔ بابے کا یہ مزار سال ہا سال قائم رہا لیکن جب شہباز شریف نے مینا ر پاکستان کے پاس راوی روڈ پر آزادی فلائی اوور بنایا تو بابے کی قبرکو قبرستان منتقل کردیا گیا گو کہ چھتری کا نشان اس جگہ پر آج بھی موجود ہے اور پرانے لہوریوں کو آج بھی چھتری سائیں یاد ہے۔
پیر, ستمبر 7, 2026
تازہ خبریں:
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نئے صوبے ۔۔بسم اللہ اسلام آباد سے کریں : سہیل وڑائچ کا کالم
- زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات
- نثار کھوڑو کی تحریکِ التوا یا تحریکِ پیش بندی؟ : نصرت جاوید کا کالم
- بلوچستان: ضلع کچھی میں مسلح افراد کا پولیس تھانے اور سرکاری دفاتر پر حملہ
- صوبوں کی تقسیم اور ملک کا ’مفرور صدر‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- دوسری دنیا کا قیام ممکن ہے : کمیونسٹ انٹرنیشنل کے یومِ تاسیس پر فہیم عامر کا خصوصی مضمون

