لاہور : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان پرمشتمل سنگل بینچ نے پنجاب حکومت کی جانب سے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو عدالتی اختیارات دینے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔اس دوران درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ عدلیہ اور ایگزیکٹو کے علیحدہ علیحدہ اختیارات ہیں، پنجاب حکومت کا اختیارات دینے کا نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل دو اے اور آرٹیکل نو کی خلاف ورزی ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے برہمی کا اظہار کرتےہوئے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت کو عدالتی اختیارات کا بڑا شوق ہے، عدالتوں میں تماشا لگا رکھا ہے، تمام سسٹم کابیڑا غرق کر دیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ جن اتھارٹیز نے نوٹیفکیشن جاری اور منظور کیا ان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے اور نوٹیفکیشن کالعدم ہوا تو وزیر اعلیٰ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے۔
بعدازاں عدالت نے نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
پیر, اکتوبر 26, 2026
تازہ خبریں:
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم

