لاہور:پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین کھوکھر نے اگلے سال گندم کی کاشت میں بہت بڑی کمی لانے کا اعلان کردیا۔
لاہور پریس کلب میں پاکستان کسان اتحاد کے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد حسین کھوکھر نے کہا کہ کسان اگلی فصل کہاں سے کاشت کریں گے؟ کسان کے لیے کوئی درد نہیں، کیا ہم گندم جلا دیں؟
انہوں نے کہا کہ گندم کا مسئلہ صوبائی یا ضلعی نہیں بلکہ یہ قومی مسئلہ ہے، دنیا بھر میں فود سیکیورٹی پہلے نمبر پر ہوتی ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں دوسرے نمبر پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کاشتکار گندم کی فصل آنے کے بعد ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں، کاشتکار صرف محنت کا صلہ مانگ رہا ہے، فی من کاشت کی لاگت 3 ہزار 400 روپے ہے، جب کہ ہمیں محض 2 ہزار روپے فی من قیمت مل رہی ہے۔
خالد حسین کھوکھر نے طنز کیا کہ چینی والے زیادہ محب وطن ہیں، کسان سال بھر کام کرتا اور عوام کی خدمت کرتا ہے، کسان کے گھر میں صف ماتم ہے، اس کی تمام امید گندم سے ہوتی ہے، محکمہ زراعت بتائے گندم پر کتنا خرچہ آتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کسانوں کے ساتھ ملنا نہیں چاہتی ہیں، گندم درآمد کر کے ڈالر کمائے گئے، کوئی انکوائری نہیں ہوئی۔
چیئرمین کسان اتحاد نے کہا کہ جس محترمہ کا کاشتکار سے کوئی تعلق نہیں اس کو بٹھا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ سال گندم کی پیداوار میں بہت بڑی کمی آئے گی تو عوام پریشان ہوں گے، ہم تو مزدور اور کسان لوگ ہیں، لسی چٹنی کھا لیں گے، لیکن عوام کیا کریں گے؟
ہفتہ, ستمبر 5, 2026
تازہ خبریں:
- زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات
- نثار کھوڑو کی تحریکِ التوا یا تحریکِ پیش بندی؟ : نصرت جاوید کا کالم
- بلوچستان: ضلع کچھی میں مسلح افراد کا پولیس تھانے اور سرکاری دفاتر پر حملہ
- صوبوں کی تقسیم اور ملک کا ’مفرور صدر‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- دوسری دنیا کا قیام ممکن ہے : کمیونسٹ انٹرنیشنل کے یومِ تاسیس پر فہیم عامر کا خصوصی مضمون
- پیٹرول تین اور ڈیزل ڈھائی روپے لیٹر مہنگا کر دیا گیا
- پاکستان اور بھارت دیواریں گرائیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- سانحہ پمز ، ننھے فرشتے اور اجل کا فرشتہ : رضی الدین رضی کا کالم
- منڈی بہاؤ الدین میں فائرنگ کے واقعے میں جماعت احمدیہ کا مقامی عہدیدار ہلاک
- عمران خان اور جماعت اسلامی کا رومانس محبت کی باتیں اور چند گلے شکوے : ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ

