اسلام آباد: نگران حکومت نے عام انتخابات سے قبل پہلی صنعتی پالیسی لانےکا منصوبہ بنالیا جس کے لیے حکومت نے19 رکنی صنعتی مشاورتی کونسل تشکیل دی ہے اور اس میں ملک کے نامور صنعتکاروں کو شامل کیا گیا ہے۔
حکومت نے 19 رکنی صنعتی مشاورتی کونسل کا چیئرمین نگران وفاقی وزیرصنعت و پیداوار گوہر اعجاز کو مقرر کیا ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق انڈسٹریل ایڈوائزری کونسل میں نجی شعبے سے 12 ارکان شامل کیے گئے ہیں جب کہ ایڈوائزری کونسل میں 6 سرکاری اراکین بھی شامل ہوں گے، انڈسٹریل ایڈوائزری کونسل کی رپورٹ کی روشنی میں پالیسی کو حتمی شکل دی جائے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کونسل میں نجی شعبے سے محمد علی ٹبہ، فواد احمد مختار، رضا منشا، عامر فیاض شیخ، وقار احمد ملک، عبد الصمد داؤد، احسن بشیر اور سمیر چنائے شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کونسل میں تمام صوبائی چیف سیکرٹریز بشمول چیف سیکرٹری آزاد کشمیر و گلگت بلتستان شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق نگران حکومت نے عام انتخابات سے قبل پہلی صنعتی پالیسی لانےکا منصوبہ بنایا ہے جس کے لیے تمام شعبوں سےتجاویز لینےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ پائیدار ملکی معاشی ترقی کیلئے جاندار صنعتی پالیسی تشکیل دی جائے گی جس کا مقصد صنعتوں کو 100 فیصد پیداواری صلاحیت پر چلانا ہے۔
(بشکریہ: جیو نیوز)

In this photograph taken on November 16, 2016, Pakistani workers operate a machine at a textile factory in Faisalabad.
As Pakistan slowly emerges from a long-term power crisis, its once booming textile sector is scrambling to find its feet -- but high energy costs and a decade lost to competitors mean recovery is far from assured. Energy production was severely depressed for more than 10 years due to chronic under-investment, inefficiencies in the power network and an inability to collect sufficient revenue to cover costs.
/ AFP PHOTO / KHALIL UR-REHMAN / TO GO WITH AFP STORY: Pakistan-Energy-Industry-Textiles, FOCUS by Caroline Nelly PERROT
