Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعہ, ستمبر 25, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ
  • پیٹرول ، ڈیزل پر جگا ٹیکس اور جماعتِ اسلامی کی ’’ نظریاتی سیاست ‘‘ : نصرت جاوید کا کالم
  • پی ٹی آئی لانگ مارچ سے پہلے اسلام آباد کے راستے بند، اہم شاہراہوں پر کنٹینرز
  • فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
  • مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
  • جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
  • امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » امتیاز عالم کاکالم:’’میرا جسم میری مرضی‘‘(#MeToo)
امتیاز عالم

امتیاز عالم کاکالم:’’میرا جسم میری مرضی‘‘(#MeToo)

ایڈیٹرمارچ 7, 20213 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
imtiaz alam
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

’’میر اجسم میری مرضی‘‘ کا نعرہ کل (8مارچ) تمام دنیا میں گونجے گا۔ کسی بھی انسان کو اپنی زندگی پہ اختیار کیوں نہ ہو؟ آخر اس پر اصرا ر کیوں، کیوں کہ ’’تمہارا جسم، میری مرضی۔‘‘ آج کل دنیا بھر میں نسوائیت پسندی (Feminism) کی چوتھی لہر چل رہی ہے۔ نسائیت پسندی کی یہ لہر 2008ء سے جنسی ہراسانی، صنفی تفریق، تضحیکِ نسواں (Misogny) اور عورت کے ہمہ طرفہ استحصال کے خلاف ابھری ہے۔ جنسی ہراسگی اور زنا بالجبر کا نشانہ بننے والی خواتین شرم و حیا کے ہاتھوں زندہ درگور ہونے کے بجائے سوشل میڈیا پہ پھٹ پڑیں اور MeToo # مہم نے تمام دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ کروڑوں عورتیں جو مرد کی جنسی درندگی کا شکار ہوئیں اور تمام عمر کے لیے ذہنی دبائو اور نفسیاتی مسائل میں گھر کے رہ گئیں۔ ان میں سے بہت کو حوصلہ ملا کہ وہ چیخ اُٹھیں اور مجرموں کو سرعام ننگا کیا۔ سوشل میڈیا پر MeToo ایک عالمی رجحان بنا اور دنیا کے ہر خطے سے احتجاج کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ جس پر بہت سے مرد شائونسٹ آپے سے باہر ہوگئے اور انہوں نے عورتوں کی نسوانیت کے خلاف طوفان بدتمیزی کھڑا کردیا لیکن عورتیں فحش کلامی کے آگے جھکی نہیں۔ بلکہ انہوں نے ترکی بہ ترکی جواب دینا شروع کردیا۔ جب مردانہ سفلی ردعمل کے خلاف خواتین نے دقیا نوسی روایتوں میں گھٹ کے چپ ہونے کی بجائے جیسے کو تیسا کر کے رکھ دیا تو ہر قبیل کے حضرات میدان میں اتر آئے۔ یہی کچھ پاکستان میں ہوا۔ کوئی ان سے پوچھے کہ عورت کے ساتھ گھر میں کیا ہوتا ہے، سڑک پر چلتے کیا بیتتی ہے، سفر کرتے کیا گزرتی ہے، درسگاہوں میں کیا ہوتا ہے اور دفاتر میں کیا کچھ نہیں کیا جاتا۔ جب عورت ریپ کا شکار ہوتی ہے تو اُلٹا اسے ذمہ دار اور شرمندہ کیا جاتا ہے۔ عورتیں تو مردانہ فحاشی، فحش نگاہی اور جنسی جرائم کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں جس سے مرد شاہی کو دھچکا تو لگنا ہی ہے۔
عورتوں کی اس لہر کے پیچھے ایک نیا تجزیاتی سانچہ سامنے آیا ہے جسے (Intersectionality)کہا جاتا ہے۔ یہ عورت کے سوال پہ نسل، طبقے، قومیت، رنگ، صنفی شناخت، جنسی رجحان اور دیگر سماجی و معاشی عوامل کا مربوط تجزیاتی فریم ورک ہے جس سے عورت سے کی جانے والی ہر نوع کی تفریق کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کی خالق ایک سیاہ فام امریکی خاتون ہیں، جن کا نام کمبرلے کرین شا (Kimberele Crenshaw) ہے۔ نسائی تحریک اتنی ہی پرانی ہے جتنی صنفی تفریق۔ اور نسائیت (Feminism) کا مطلب فقط عورت کو بطور مکمل انسان منوانا ہے۔ جب نسائیت کی پہلی لہر (1848-1920) چلی تو انہوں نے عورتوں کے حق رائے دہی، منتخب ہونے کے حق اور جائیداد کی ملکیت کے حق کے مطالبات کیے۔ بالآخر امریکہ میں انہیں 1920ء میں ووٹ کا حق مل گیا۔ یہ تحریک بنیادی طور پر سفید فام متوسط طبقے کی خواتین کی تھی۔ نسائیت کی دوسری لہر (1963-1980) بہت ریڈیکل تھی۔ اس تحریک نے جنسیت پسندی (Sexism) کو نشانہ بنایا، عورتوں کی نابرابری و محرومی، صنفی عدم مساوات، تولیدی حقوق (Reproductive Rights)، صنفی حقوق، برابر کی اجرت مساوی واقع اور عورتوں کی طاقت مندی ( Empowerment) کے مطالبات کے ساتھ ساتھ عورت کے بطور بازاری شے اور اشتہاری استعمال، خوبصورتی کے مقابلوں، عورتوں کو جنسی جنس (Sexual Commodity) بنانے اور گھریلو نمائش اور مرد کی تسکین کا ذریعہ بنائے جانے کے جنسیت پسندانہ رجحانات کے خلاف جدوجہد کی۔ یہ ایک تاریخ ساز لہر تھی جس نے پدرشاہی نظام کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ منڈی میں عورتوں کے بطور شے کے استعمال کو بھرپور طریقے سے چیلنج کیا۔ اس کی تجزیہ کار سائمن ژی بیوائر (Simon De Beauvoi) تھیں جن کی کتاب ’’سیکنڈ سیکس‘‘ نے تہلکہ مچا دیا۔ اس رجحان کے اندر بھی کئی رجحان تھے جس میں اشتراکی نسائیت بھی شامل تھا جو عورت کی نجات کو طبقاتی استحصال کے خاتمے سے جوڑتا تھا لیکن اس تحریک میں بھی سیاہ فام عورتیں زیادہ شامل نہ ہو سکیں اور یہ بھی زیادہ تر متوسط طبقوں کی خواتین تک محدود رہی۔ نسائیت کی تیسری لہر ایک طرح سے منڈی کے نئے تقاضوں کی نذر ہوگئی۔ اب نسوانیت اور بنائو سنگھار کا رواج بڑھا۔ انفرادیت پسندی اور صنفی کثرت کے سوالات اور حقوق کی بات ہونے لگی۔ یہ ایک طرح سے دوسری لہر کی ریڈیکل نسائیت کے خلاف شوخ ردعمل تھا۔
آج کل جو لہر ہے وہ تمام طرح کی صنفی کثرت اور محروم صنفوں کے حقوق کے لیے سرگرداں ہے۔ اس کا ابھار سوشل میڈیا کے پھیلاؤکے ساتھ ہوا۔ اس لہر میں بھی کئی رجحانات ہیں لیکن اس کا مرکزی نکتہ جنسی استحصال، جنسی ہراسگی اور صنفی تفریق ہے۔ خواتین کی اس طویل جدوجہد کے مختلف مراحل میں عورتوں نے بہت سے اہداف حاصل کئے اور وہ آگے بڑھتی گئی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں عورتوں کی تحریک کے سامنے چاروں نسائی لہروںکے ایشوز بدستور موجود ہیں۔ عورتوں کو حق رائے دہی تو ملا ہے لیکن اس پر مکمل عملدرآمد تشنہ تکمیل ہے۔ اسمبلیوں میں اور اعلیٰ عہدوں پہ عورتوں کی نمائندگی محض نمائشی ہے۔ عورتوں پہ گھریلو تشدد عام ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں میں تعلیم و روزگار کے مواقعوں کا فرق بہت زیادہ ہے۔ عورتوں کی محنت کا اعتراف اور مساوی معاوضے ناپید ہیں۔ صنفی تفریق، صنفی عدم مساوات، جنسی جبر و ہراسگی، کم عمری کی شادی، کثیر الازدواجی اور پدر شاہی خاندان اور مردانہ بالادستی کے سماج کی تمام بدعتیں اور زیادتیاں عام ہیں۔ ایسے میں عورت جب اپنے جسم کی حفاظت اور اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا حق مانگتی ہے تو پورا پدر شاہانہ سماج اس پر پل پڑتا ہے۔ حالانکہ خواتین اور مردوں کے مابین مساوات سے نہ صرف عورت صحت مند اور توانا ہوتی ہے بلکہ مرد بھی انسا ن کا بچہ بن جاتاہے لہٰذا عورت کی آزادی میں مرد کی آزادی بھی مضمر ہے۔ مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleوزیراعظم کا سینیٹ انتخابات پر الیکشن کمیشن کو ایجنسیز سے بریفنگ لینے کا مشورہ
Next Article گل نو خیز اختر کاکالم:حضرات! کیا میں نے غلط کہا؟
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ

ستمبر 25, 2026

پیٹرول ، ڈیزل پر جگا ٹیکس اور جماعتِ اسلامی کی ’’ نظریاتی سیاست ‘‘ : نصرت جاوید کا کالم

ستمبر 25, 2026

پی ٹی آئی لانگ مارچ سے پہلے اسلام آباد کے راستے بند، اہم شاہراہوں پر کنٹینرز

ستمبر 25, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ ستمبر 25, 2026
  • پیٹرول ، ڈیزل پر جگا ٹیکس اور جماعتِ اسلامی کی ’’ نظریاتی سیاست ‘‘ : نصرت جاوید کا کالم ستمبر 25, 2026
  • پی ٹی آئی لانگ مارچ سے پہلے اسلام آباد کے راستے بند، اہم شاہراہوں پر کنٹینرز ستمبر 25, 2026
  • فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم ستمبر 24, 2026
  • محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم ستمبر 24, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.