گوادر : بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں کئی ماہ سے جاری حقوق کی فراہمی کے لیے احتجاج کے باعث علاقے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
پولیس نے گذشتہ چار دنوں میں تقریباً 100 مظاہرین کو گرفتار کیا ہے، جبکہ جمعرات کو صوبائی حکومت نے گوادر میں ایک ماہ کے لیے ضابطہ فوجداری کے تحت دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔تاہم سرکاری حکام کے مطابق جمعے کو گوادر شہر میں کاروباری مراکز کھلنے شروع ہو گئے ہیں۔
پیر کے روز سے گوادر شہر اور متعدد دیگر علاقوں میں کاروباری مراکز بند تھے جس کی وجہ سے بعض اطلاعات کے مطابق اشیا خوردو نوش کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔تاہم لینڈ لائن پر رابطہ کرنے پر ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ پانچویں روز شہر میں کاروباری مراکز کھلنے شروع ہو گئے ہیں۔
ضلع بھر میں پیر سے انٹرنیٹ سروس اورموبائل فون سروس بدستور بند ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو رابطوں میں شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے۔دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جماعت اسلامی ضلع گوادر کے نائب امیر سعید احمد کے اہلخانہ کے افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
تربت میں حق دو تحریک کی خواتین کے جلسے سے خطاب کے بعد حق دو تحریک کے رہنما صبغت اللہ اور معروف معذور رہنما وسیم سفر زامرانی اور فتح زامرانی بھی گرفتار کر لیے گئے ہیں۔کوئٹہ میں آئی جی پولیس عبدالخالق شیخ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمان نے ایک ہڑتال کر کے پورے ضلع کو یرغمال بنایا تھا۔
آئی جی پولیس عبدالخالق شیخ نے کہا کہ پر امن احتجاج کرنا ہر ایک کا حق ہے لیکن اس کا ایک طریقہ ہوتا ہے اور بعض شرائط دونوں طرف لاگو ہوتی ہیں۔انٹرنیٹ سروس اور موبائل فون سروس بند ہونے کی وجہ سے مولانا ہدایت الرحمان اور حق دو تحریک کے رہنماﺅں سے وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس کے الزامات پر موقف نہیں لیا جا سکا۔
تاہم ایک ویڈیو پیغام میں مولانا ہدایت الرحمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گوادر میں صورتحال خراب کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد کی ۔جمعہ کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام حق دو تحریک کے رہناﺅں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنینشل کا کہنا ہے کہ اسے گوادر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور دفعہ 144 کے نفاذ پر تشویش ہے۔ ’لوگوں کو پُرامن احتجاج کا حق ہے اور ریاست پر فرض ہے کہ انھیں اس حق کے اظہار کی اجازت دے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
اتوار, اکتوبر 25, 2026
تازہ خبریں:
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی

