گوادر : سیکیورٹی فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی(بی ایل اے) کے دہشت گردوں کی گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر حملےکی کوشش ناکام بناتے ہوئے تمام 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
کمشنر مکران سعید احمد عمرانی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ حملے میں متعدد دھماکوں کی بھی اطلاع ملی، انہوں نے مزید کہا کہ مجرموں کے خلاف کلیئرنس آپریشن کیا جا رہا ہے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) گوادر کیپٹن (ر) زوہیب محسن نے ابتدائی طور پر ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ 8 مسلح حملہ آوروں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا لیکن بعد میں ہلاک ملزمان کی تعداد 7 بتائی گئی، انہوں نے کہا کہ فائرنگ مکمل طور پر رک گئی ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر نامعلوم دہشت گردوں نے حملہ کردیا جس میں کمپلیکس میں فائرنگ اور دھماکے سنے گئے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا جس کے بعد سیکیورٹی فورسز اور ملزمان میں فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔پورٹ اتھارٹی کمپلیکس میں پورٹ اتھارٹی کے ملازمین کی فیملیز رہائش پذیر ہیں جبکہ سرکاری اداروں کے دفاتر بھی واقع ہیں۔
اقوام متحدہ کے محکمہ برائے تحفظ و سلامتی کے ایک بیان میں کہا گیا کہ پورٹ کمپلیکس پر حملے کے دوران متعدد دھماکوں کے بعد فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، کمپلکس میں کئی سرکاری اور نیم فوجی دفاتر موجود ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے، گوادر میں اقوام متحدہ کے 7 عہدیدار مکمل محفوظ ہیں۔ایس ایس پی گوادر کیپٹن زوہیب محسن نے کہا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر حملہ آوروں کے خلاف آپریشن مکمل ہو گیا ہے اور اب کمپلیکس میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔
کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مجید بریگیڈ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر دہشت گردوں کے حملے کی پُر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا۔صدر مملکت نے اپنے بیان میں گوادر میں فورسز کی موثر جوابی کارروائی کو سراہا، انہوں نےکہا کہ ہماری بہادر فورسز نے جرأت اور ہمت کا مظاہرہ کیا۔وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی پر سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کہ پیغام واضح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی تشدد کا انتخاب کرے گا، اس پر ریاست کی طرف سے کوئی رحم نہیں کیا جائے گا۔
( بشکریہ : ڈان ڈاٹ کام )
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

