وہ ایک کھاتے پیتے خوشحال اور مہذب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد اُسے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں بہت اچھی ملازمت بھی مل گئی۔ ملازمت بھی کیا تھی بس سفید کوٹ پہن کر گنتی کے چند متمول مریضوں کا دن میں تین چار بار معائنہ کرکے نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو ہدایت جاری کر دینا باقی وقت ساتھی ڈاکٹروں سے گپیں لگانا، تازہ جوس، ڈرائی فروٹ، چائے ، کافی اور اسی طرح کے دیگر لوازمات سے لذت کام ودہن کا اہتمام کرنا۔ رفتہ رفتہ اُسے اپنے کام کی یکسانیت سے اکتاہٹ ہونے لگی۔ اس کی دیرینہ خواہش تھی کہ وہ سرجن بنے اور نیورو سرجری کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے ۔ دو برس کی ملازمت کے بعد اُسے محسوس ہونے لگا کہ جس مقصد کے لئے اس نے ایم بی بی ایس کیا وہ مقصد پورا نہیں ہو رہا۔ اسی دوران قریبی اور دور پرے کے عزیزوں کی طرف سے اس کے رشتے بھی آتے رہے ۔ ایک دن اس کی والدہ نے بتایا کہ تمہاری چھٹی والے دن کچھ رشتے دار ہمارے گھر آرہے ہیں، فیملی لندن میں رہتی ہے وہ اپنے لڑکے کے لیے تمہارے رشتے کی بات کرنا چاہتے ہیں تم لڑکے اور اس کے گھر والوں سے مل کر ہمیں بتا دینا کہ بات کو آگے بڑھایا جائے یا نہیں۔ ڈاکٹر سکینہ کو اپنی امی کی بات بہت پسند تھی کہ وہ کبھی رشتے کے معاملے میں دباؤ نہیں ڈالتی تھیں بلکہ ہمیشہ اس کی پسند اور رائے کو اولیت دیتی تھیں۔
اس سے پہلے بھی کئی ڈاکٹرز اور ا چھے خاندانوں کے رشتے آئے لیکن سکینہ کو ان میں سے کوئی بھی پسند نہیں آیا۔ لندن سے آنے والی فیملی سے مل کر سکینہ کو اس لئے بھی اچھا لگا کہ کسی نے اس سے رسمی انٹرویو نہیں کیا ۔یہ فیملی بھی سکینہ کے خاندان کی طرح مختصر تھی۔ ماں باپ ایک بیٹا اور بیٹی، تمام لوگ بہت مہذب اور خوش مزاج تھے ۔ پہلی ملاقات بہت اچھی رہی۔ مزید دو تین ملاقاتوں میں دونوں خاندان ایک دوسرے کے مزاج سے کسی حد تک واقف ہو گئے ۔ سکینہ کو جمشید کی نفیس شخصیت اور مردانہ وقار پسند آیا اور اس نے شادی کے لئے ہاں کردی۔
جمشید برطانیہ کی ایک بہت بڑی فرم میں سول انجینئر تھا جو ملک بھر میں بڑے بڑے پل اور تجارتی مراکز کی تعمیر کے لئے مشہور تھی۔ جمشید کی فیملی کی لندن واپسی سے پہلے دونوں کا نکاح ہو گیا تا کہ سکینہ کے ویزے کے لئے ضروری کاغذی تقاضوں کو پورا کیا جاسکے ۔ جمشید نے لندن پہنچتے ہی اُسے سپاؤس ویزے لئے تمام دستاویزات بھجوادیں اور چند ہی ہفتوں میں اُسے برطانیہ کا ویزا مل گیا۔ لندن پہنچتے ہی ڈاکٹر سکینہ کو ایک خوشگوار حیرانی اور ماں باپ کا گھر اور اپنا وطن چھوڑنے کے ملے جلے احساس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لندن اس کے لئے ایک حیرت کدے کی طرح تھا، یہاں ہر چیز اس کے لئے نئی تھی۔ ٹریفک کا نظم وضبط، گھروں کا تعمیراتی حسن ِترتیب، شاپنگ سنٹرز کا اُجلا پن، گاڑیوں کی پارکنگ کا قرینہ اور انتظام، راہ چلتے لوگوں کا سلیقہ اور رکھ رکھاؤ، اُسے یہ شہر چند دنوں میں ہی پسند آگیا۔ نہ یہاں ٹریفک کا شور اور گاڑیوں کے ہارن کی بے ہنگم آوازیں تھیں اور نہ ہی کوئی مرد کسی عورت کو گھور کر دیکھ رہا تھا۔ پیدل چلنے والوں کے لئے ہر سڑک کے ساتھ کشادہ فٹ پاتھ اور 24 گھنٹے پبلک ٹرانسپورٹ یعنی بسوں اور ٹرینوں کا شاندار نظام بھی اُسے اچھا لگا۔ ہر ایک کے لئے تعلیم اور صحت کی بالکل مفت سہولت نے بھی اُسے متاثر کیا۔ ڈاکٹر سکینہ کے لندن پہنچنے پر اُن کی شادی کی ایک شاندار تقریب کااہتمام کیا گیا۔ جمشید کے تمام قریبی دوست اور رشتے دار اس تقریب میں شریک ہوئے ۔ جمشید اُسے ہنی مون کے لئے یورپ کے کئی اور ملکوں میں لے جانا چاہتا تھا مگر ڈاکٹر سکینہ کا اصرار تھا کہ وہ لندن گھومنا چاہتی ہے اور برطانیہ کے دوسرے شہروں اور خاص طور پر سکاٹ لینڈ کی سیر کرنا چاہتی ہے ۔
پہلے دو ہفتے میں جمشید نے اُسے پورے لندن کی سیر کرادی۔لگتا تھاجمشید اس کا ٹوورسٹ گائیڈ ہے ۔ اُسے جمشید کی زبانی یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ برطانوی دار الحکومت دنیا کے اُن مہنگے ترین شہروں میں سے ایک ہے جہاں ماسکو کے بعد سب سے زیادہ ارب پتی لوگ آباد ہیں۔ لندن وہ ملٹی کلچرل شہر ہے جہاں تین سو سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ باغات، جھیلوں اور پارکوں کے اس شہر میں 857 آرٹ گیلریز، 192 عجائب گھر، 325 لائبریریز، 911 سینما گھر اور 800 سے زیادہ بک شاپس یعنی کتابوں کی دکانیں ہیں۔ اس بے مثال شہر میں ہر سال تقریباً 192 فیسٹیول منعقد ہوتے ہیں۔ ابھی لندن کی سیر سے ڈاکٹر سکینہ کا دل نہیں بھرا تھا کہ جمشید اُسے دو ہفتے کے لئے سکاٹ لینڈ لے گیا۔ اُسے سکاٹش ہائی لینڈز، سر سبز بلند و بالا پہاڑی سلسلے ، چراگا ہیں اور جھیلیں بھی بہت اچھی لگیں لیکن جو بات لندن کی تھی اس کا کوئی ثانی نہیں۔ سکینہ کو لندن آئے ایک سال گزر گیا اُسے احساس ہی نہ ہوا کہ وقت پر لگا کر اُڑ رہا ہے ۔ اس کے والدین اور ساس سسر بھی خوش تھے کہ نئے شہر میں اس کا دل لگ گیا ہے ۔ ڈاکٹر سکینہ اپنی تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھنا چاہتی تھی چنانچہ اس نے سب سے پہلے پلیب (PLAB) کا ٹیسٹ پاس کیا اور پھر ایم آر سی پی کی تیاری شروع کر دی۔ اسی دوران سکینہ کے والدین نے اصرار کیا کہ وہ کچھ دنوں کے لئے پاکستان آجائے ، سب اُسے ملنے کے لئے بے تاب ہیں۔ چنانچہ اس نے جمشید سے بات کی تو اس نے کہا کہ تم اکیلی جانا چاہو تو اگلے ہفتے چلی جاؤ اور اگر میرے ساتھ جانا ہے تو اگلے ماہ ہم اکٹھے جاسکتے ہیں اور پھر جب وہ دنوں پاکستان پہنچے تو ڈاکٹر سکینہ کی خوشی اور والدین سے ملنے کی بے تابی دیدنی تھی۔ پہلے دو ہفتے تو دعوتوں میں گزر گئے ۔ جو بھی ملتا وہ ڈاکٹر سکینہ سے یہی پہلا سوال کرتا کہ لندن اور لاہور میں کیا فرق ہے ۔ برطانیہ کے لوگ کیسے ہیں؟ وہاں کی طرز زندگی کس طرح کی ہے ؟ جمشید اس طرح کے سوالات سن کر مسکرا دیتا اور کوئی جواب دینے کی بجائے کہتا کہ اپنی ڈاکٹر سکینہ سے پوچھو، وہی ان سوالوں کا صحیح جواب دے سکتی ہے ۔تین ہفتوں کے گزرنے کا پتہ ہی نہیں لگا جس روز انہوں نے لندن واپس آنا تھا اس سے ایک روز پہلے سکینہ نے اپنی تمام قریبی سہیلیوں اور اُن کے شوہروں کو کھانے پر مدعو کیا۔ سب نے مل کر پرانی یادیں تازہ کیں لیکن سب کو تجسس تھا کہ سکینہ انہیں لندن اور برطانیہ کی زندگی کے فرق کے بارے میں اپنے مشاہدات اور تجربات بتائے ۔ سب ہمہ تن گوش تھے ۔
ڈاکٹر سکینہ نے بتانا شروع کیا کہ برطانیہ میں کسی گھر میں نوکر رکھنے کا کوئی رواج نہیں ہے ، ہر شخص کو اپنے گھر کے سارے کام خود کرنے پڑتے ہیں۔ اپنی گاڑی خود چلانا اور اس میں پیٹرول خود بھرنا پڑتا ہے ۔ ہفتے میں 5 دن کام اور دو دن چھٹی ہوتی ہے اور پانچ دن کام کا مطلب کام کرنا ہوتا ہے وقت گزاری یا وقت ضائع کرنا نہیں۔ دفتروں میں کسی کی خاطر مدارت کا کوئی تصور نہیں اور مہمان کو چائے یا کافی پلانا ناگزیر ہوتو میزبان کو خود اپنے ہاتھ سے اس کے لئے چائے یا کافی بنانا پڑتی ہے ۔ ماؤں کو خود اپنے بچے پالنا اور سکول لانا لے جانا پڑتا ہے ۔ برطانیہ میں ہنر مند افراد اور پیشوں کی بہت عزت ہے اور کوئی پیشہ بڑا یا چھوٹا نہیں۔ کسی کا کسی سے کوئی کام نہیں پڑتا۔ کسی ضرورت مند کو کسی دفتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں، سب کام ایک سسٹم کے تحت خط و کتابت، ٹیلی فون یا آن لائن حل کر دیئے جاتے ہیں۔ ملاوٹ اور جعل سازی کا تصور بھی محال ہے ۔ ضروریات زندگی کی اشیاءبہت سستی ہیں۔ دودھ، ڈبل روٹی، مکھن، انڈے ، چکن اینڈ چپس کی قیمتیں گزشتہ کئی دہائیوں سے انتہائی مناسب بلکہ کم ہیں۔ بے روزگاروں، معذوروں اور اکیلی ماؤں کو باقاعدگی سے سرکاری وظیفہ اور رہائش کی سہولت میسر ہے ۔ اس لئے انہیں کسی کی منت ترلے کرنے کی ضرورت نہیں۔ سب کام میرٹ اور ضروری ترجیحات کے مطابق کئے جاتے ہیں۔ کوئی کسی کی زندگی میں مداخلت نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی کسی کی ٹوہ میں رہتا ہے ۔ شخصی آزادی کا مکمل احترام کیا جاتا ہے ۔لوگوں کی اکثریت باتیں بنانے کی بجائے اپنے حصے کا کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ حب الوطنی کے بارے میں جذباتی تقریریں کرنے کی بجائے اپنے ملک کے قانون اور ضابطوں کا خیال رکھا اور ان کی پیروی کی جاتی ہے ۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں کے بخئے ادھیڑنے کی بجائے اس بات کو اہمیت دی جاتی ہے کہ ہم نے اپنے حصے کا چراغ جلایا کہ نہیں۔
تعلیم سب کے لئے یکساں ہے اور سب کا علاج ایک جیسے ہسپتالوں میں ہوتا ہے ۔ پرائمری اور سیکنڈری سکول کی تعلیم کے دوران بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔ وقت کی پابندی، نظم و ضبط، انصاف کی بالادستی اور قانون کی پاسداری برطانوی معاشرے کا لازمی جزو ہیں۔ ڈاکٹر سکینہ ایک تسلسل اور استغراق سے اپنے مشاہدات اور تجزیے کی تفصیلات بیان کر رہی تھی اور جمشید دل ہی دل میں مسکراتے ہوئے حیران ہو رہا تھا کہ اس کی شریک حیات نے ایک سال کے مختصر عرصے میں برطانوی معاشرے کو جس طرح پر کھا اور وہاں کی طرز زندگی کا تجزیہ کیا ہے ، وہ بلاشبہ اس کی ذہانت کی دلیل ہے ۔وہ اپنے حسنِ انتخاب پر خوش تھا جب کہ اس محفل کے باقی حاضرین بڑے انہماک اور دلچسپی سے ڈاکٹر سکینہ کی باتیں سن کر اس کے مشاہدات اور موازنے پر خوش گوار حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ جب تک پاکستان کا ہر شہری دوسروں سے توقعات لگانے اور محض اربابِ اختیار پر تنقید کرنے کی بجائے اپنے حصے کا چراغ نہیں جلائے گا اس وقت تک اسلامی جمہوریہ پاکستان سے جہالت، کرپشن، نا انصافی، اقربا پروری ،بد امنی، حق تلفی اور غربت کا اندھیرا ختم نہیں ہوگا۔
Previous Articleنصرت جاویدکا تجزیہ۔۔حکومت اور اپوزیشن کی ’’آنے والی تھاں‘‘ واپسی
Next Article کراچی کے بحران کا المیہ :مکالمہ/سلمان عابد

