یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے میں داخلہ لیا ، میری گھر واپسی کی یونیورسٹی بس نیوملتان اور شاہ رکن عالم کالونی کے راستے ممتاز آباد آتی تھی ، اور اس بس میں میرے واپسی کے سفر کے مستقل ساتھی سر ظفر رہے ۔
پہلے دن ہم نے کچھ تعارفی گفتگو کی مگر یہ ملاقات تقریبا ایک گھنٹے کی علمی نشست میں بدل گئی ہم بس کی ایک ہی سیٹ پر بیٹھے اور اگر کوئی اور ہمارے ساتھ بیٹھ جاتا تو ہم استدعا کرکے سیٹ بدل لیتے اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم کچھ کتابوں کا ساتھ ساتھ مطالعہ شروع کرتے اور پھر مختلف مضامین پر تبادلہ خیال کرتے اس سے پہلے میرا تبادلہ خیال سر مبارک مجوکہ کے ساتھ تھا سر ظفر نہایت نفیس اور متین انسان تھے نہایت خوبصورت انداز میں اپنا نقط نظر بیان کرتے ، میں نے ان سے بہت سی خوبصورت عنوانات پر بات کی ، سیاست ، مذہب ، آرٹ ،لٹریچر، کرکٹ سمیت متعدد موضوعات مگر سر کا انداز گفتگو ایک سا رہتا کسی بات کی حمایت کرتے یا مخالفت کرتے ، وہ زیادہ زور دلیل پر دیتے جذبات کا عنصر کہیں نہ ہوتا میں نے لبرل ازم ، مذہب ، سیکولر ازم ، تاریخوں کا تقابل ، معاشروں کے ارتقا ، کو پڑھنے کا شوق جن اساتذہ سے لیا وہ سر مبارک مجوکہ اور ڈاکٹر ظفر ہیں دونوں محترم اساتذہ اب ہم میں نہیں مگر ان محترم ہستیوں کی موجودگی کو ہر وقت محسوس کرتا ہوں
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

