Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, اکتوبر 18, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
  • بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
  • ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟
  • اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا
  • ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • گورنر راج کے بعد حکمران اتحاد میں اختلافات : ’ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں‘ : محسن نقوی
  • ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم / زبانوں کے خاندان
  • پشاور میں سکول کی چھت گرگئی : اٹھائیس بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی
  • سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » ڈاکٹر صغرا صدف کا کالم:کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
لکھاری

ڈاکٹر صغرا صدف کا کالم:کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

ایڈیٹردسمبر 18, 20235 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
sughra sadaf
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

دُکھ سُکھ ہر گھڑی دن، مہینے اور سال کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں۔ دن اور رات کی طرح آتے جاتے رہتے ہیں۔ مگر دسمبر کے ساتھ جڑی تلخ یادیں مستقل طور پر ہماری ذات اور اجتماعی احساس میں سرایت کرکے درد کا روپ دھار چکی ہیں۔یوں یہ متوالی رُتوں والا مہینہ ہمارے لئے ملال اور کرب کی علامت بن چکا ہے۔ سبزہ زندگی ہے، خوشی ہے، بہار ہے، امید ہے۔سبزہ بے داغ ہی ہوتا ہے، داغدار ہونے کے بعد وہ سبزہ نہیں رہتا کہ کثافت میں اٹ کر ا س کی وہ دلکشی، طراوت اور افادیت باقی نہیں رہتی جو اس کی پہچان ہے۔ یہی حال فرد کا ہے۔ اس کی شخصیت کا سبزہ اس کی سوچ ہے جس پر نفرت، تعصب اور بدلے کا جنون طاری ہو تو شکوک کے ملگجے اندھیرے میں ایثار اور روادار ی کی جگہ انتقام اور عیاری لے لیتے ہیں۔ نفرت کا ناگ خیر کی قدروں پر مسلط ہو جائے تو پھر انسان اس کے اشارے پر روبوٹ کی طرح چلنے لگتا ہے۔ رستے کے انتخاب کا اختیار رکھنے والا خیر کی بجائے شر والے خانے میں ٹک کر دے تو پھر اسی سمت آگے بڑھتا رہتا ہے۔جب تک رک کر اپنا باطنی نظام ری سیٹ نہ کرے۔
قدیم مہذب معاشروں میں دو نظامِ اخلاق رائج ہوتے تھے۔ ایک اُمرا، یعنی خاص لوگوں کا اور دوسرا عوام یعنی اکثریت کا۔اُس وقت یہ خاص لوگ صرف دولت کے حوالے سے نہیں پہچانے جاتے تھے بلکہ فلسفے، دانش اور اعلیٰ نظریات رکھنے کے باعث معتبر سمجھے جاتے تھے۔ یہ خاص لوگ اگرچہ بہت کم ہوتے تھے لیکن ان کا وجود اخلاقی معیار کا عکاس اور نمونہ ہوتا تھا، ان کی سوچ اُجلی اور ظرف وسیع ہوتا تھا۔ سوچ کا وسیع دائرہ ان کی شخصیت کو منفی عوامل سے بچائے رکھتا تھا۔ایثار، عالی ظرفی اور رواداری ان کی شخصیت کا خاصہ تھی، وہ مادیت کی بجائے روحانیت اور مذہب و نسل کی بجائے انسانیت اور صداقت کے پیروکار تھے۔مکاری، دھوکہ اور انتقام سے ماورا تھے۔ انھیں کسی قانون کی ضرورت نہ تھی ۔لیکن عام فرد کی سوچ ڈگمگانے کا خدشہ رہتا ہے۔ طاقت اور بے بسی کے درمیان لڑائی جاری رہتی ہے۔جس کو قابو میں رکھنے کے لئے ان معتبر ہستیوں کے نظریات، تجربے اور اعمال کی روشنی میں عوام کے لیے اخلاقی قدروں پر مشتمل ضابطے بنائے اور لاگو کئے گئے۔ آج دنیا بھر میں قوانین کی بھرمار ہے مگر عمل میں کوئی فضیلت اور برکت نظر نہیں آتی۔اسلئے کہ وہ خاص لوگ جو قوموں کی تربیت کرتے تھے اپنی ذات کے حجروں میں مقید ہو چکے ہیں ۔ دنیا کی اکثریت پر اوسط ذہن لوگوں کی حکمرانی ہے جن کے پاس کوئی نظریاتی یوٹوپیا نہیں۔ صرف جھوٹے بیانیے، شخصیات کا سحر اور مفروضے ہیں۔مخالف کو زیر کرنے کیلئے جو ہتھکنڈے آزمائے جارہے ہیں وہ پورے اخلاقی نظام کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔کوئی نہیں سوچتا کہ وقتی جیت نسلوں کی شکست بنتی جا رہی ہے۔کوئی نہیں سوچ رہا کہ اخلاقی انحطاط معاشی زوال سے زیادہ خطرناک ہو گا۔کچھ سیاسی رہنما اپنے پیروکاروں کو استدلال اور شرافت کی عظمت سمجھانے کی بجائے حملہ آور بنانے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں اور باقی دفاع میں یہی سب کرتے ہوئے منفی اور غیر اخلاقی رویوں کو پروان چڑھانے پر مائل ہیں۔خود کو سب سے بہتر سمجھنے کی بیماری اتنی پھیل چکی ہے کہ دوسروں کا وجود ہی گوارا نہیں۔
یہی سوچ بے انصافی اور آمریت کی بنیاد ہے۔ یوں اندر اور باہر پھیلی غلاظت سے ہماری فضائیں تعفن زدہ ہو چکی ہیں۔ہم کرم کی برسات کے طلبگار ہیں جو سوچ پر لگے ہوئے جالے اور نظر پر پڑے ہوئے پردے بہا لے جائے، تاکہ ہم ہر شے کااُجلا پن دیکھنے کے قابل ہو جائیں۔ کثافت کو ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن لطافت کو اجاگر کرکے اسے محدود ضرور کیا جاسکتا ہے۔بھلے وقتوں میں دشمنی کے بھی آداب ہوا کرتے تھے۔دشمن کی بہن بیٹی کا بھی احترام کیا جاتا تھا۔ اختلاف کا دلیل سے دفاع کیا جاتا تھا، کم پڑھے لکھے لوگ کتنے دانشمند تھے۔ ہم نے ڈگریوں کی گٹھڑی سر پر رکھ کر گالی دینا، دوسروں کو ہرانا،جتانا اور ذلیل کرنا سیکھا۔خود کو بڑا ثابت کرنے کیلئے سب کو چھوٹا کہا۔ اپنے اثبات کیلئے دوسروں کی نفی کی۔ دوسروں کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے کی بجائے ان کا ٹھٹھا اڑایا۔
ہر پلیٹ فارم پر پڑھے لکھے لوگوں کے ذہن سے جھڑنے والی گندگی کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ منہ سے پھول جھڑنے اور باتوں سے خوشبو آنے کا موسم ہمارے صحنوں سے ہجرت کر چکا۔گالی ہمارا افتخار اور ہتھیار بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری جنگ میں جیت اور پسپائی میں یہی حربہ آزمایا جا رہا ہے۔فیض نے کہا تھا
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دُھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
جو جا چکا وہ واپس نہیں آسکتا مگر آئندہ کیلئے احتیاط تو لازم ہے۔ ہمارے ارد گرد وہ ہاتھ اور ذہن موجود ہیں جو خون کی نئی ہولی کھیل کر سبزے کو اجاڑ سکتے ہیں۔ آئیے ان سے نجات کا طریقہ ڈھونڈیں۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسہیل وڑائچ کا کالم:الیکشن التواء کون چاہتا تھا؟
Next Article وسعت اللہ خان کا کالم:سیئو نی میرا ماہی میرے بھاگ جگاون آ گیا
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے

اکتوبر 18, 2026

بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار

اکتوبر 17, 2026

ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

اکتوبر 17, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے اکتوبر 18, 2026
  • بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار اکتوبر 17, 2026
  • ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت اکتوبر 17, 2026
  • زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟ اکتوبر 17, 2026
  • اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا اکتوبر 17, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.