مرے کانوں میں چیخیں ہیں
مرے معصوم بچوں کی
مری آنکھوں کے تاروں کی
کہ جن کے کھیلنے کے دن تھے
لیکن ظالموں نے ان سے کیسا کھیل کھیلاتھا
مرے بچوں سے اس دن موت کھیلی تھی
مری آنکھوں میں منظر ہیں
بہت سفاک منظر ہیں
کہیں بکھری کتابیں ہیں
کہ جن پر موت لکھی ہے
کہیں بستہ ہے کاپی ہے
کہ جن پر خون کے دھبے رُلائیں خون کے آنسو
کسی منظر میں مائیں ، بین کرتی ہیں
کہیں پھولوں کی لاشوں پر
بہت سے پھول رکھے ہیں
مجھے ماؤں کی چیخیں رات بھر سونے نہیں دیتی
کہ میں ان سرد راتوں میں
یہ گھنٹوں سو چتی ہوں بس
میں پرسہ دے سکوں گی کیا
انہیں اب اپنی نظموں سے ؟
میں کیسے ان کے دکھ کو اپنی نظم میں ڈھالوں؟
خدا سے پوچھنا چاہوں
کہ یارب تیری دھرتی پر اگر یہ ظلم ٹوٹا ہے
زمیں کیوں کر سلامت ہے؟ قیامت کیوں نہیں آئی؟
میں شکوہ کرنہیں سکتی ، جواب آئے گا شکوے کا
تمہارا فرض بھی کچھ تھا
اگر تم قوم بن جاتے
تو یہ دن بھی نہیں آتا
مجھے شکوہ نہیں کرنا
مجھے پرسہ تو دینا ہے
مجھے ان سب دکھوں کو اپنی نظموں میں بھی لکھنا ہے
مرے آنسو بھی حاضر ہیں
مری یہ نظم نذرانہ
مگر میں کیسے پر سہ دوں
کہ یا رب میں بھی تو ماں ہوں
سو ماں کا دکھ سمجھتی ہوں
مجھے معلوم ہے ایسے دکھوں کا تیری دنیا میں
مداوا ہو نہیں سکتا
کبھی بھی دل گرفتہ ماں کو پرسہ ہو نہیں سکتا
تڑپتی مامتا کو اب دلاسہ ہو نہیں سکتا
پیر, اگست 10, 2026
تازہ خبریں:
- جشن آزادی پر سکیورٹی : کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں موبائل سروس بند
- مہاراجہ کی گھوڑیاں اور نئی سیاست :سہیل وڑائچ کا کالم
- وزیر داخلہ کا بیان اور ہمارا گلا سڑا نظام : مہتاب حیدر تھہیم کا تجزیہ
- میں واپس آؤں گا : یاسر پیرزادہ کا کالم
- آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران کی عالمی تنہائی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھارت میں طالب علم رہنما نیہا بورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی
- سیدان بادشاہ گر کی مدح میں ۔۔۔ علمدار حسین بخاری کا کالم ( پہلا حصہ )
- آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ کیا تبدیل کرسکتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

